1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

روم سے ملنے والی انسانی ٹانگ کا معمہ حل ہو گیا

اطالوی پولیس نے ملکی دارالحکومت سے چند روز قبل ملنے والی ایک انسانی ٹانگ کے مالک یا باقی ماندہ شہری کی شناخت کا معمہ حل کر لیا ہے۔ اس انسانی ٹانگ پر ایک ٹیٹُو کی صورت میں لکھا تھا، ’آج مرنے کے لیے ایک خوبصورت دن ہے‘۔

روم سے ہفتہ پندرہ اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس واقعے نے اطالوی اخبارات اور عام شہریوں کو اس حد تک اپنی گرفت میں لے لیا تھا کہ ہر کوئی اس بارے میں بات کر رہا تھا اور اطالوی روزنامے ’اِل میساجِیرو‘ نے تو آج اس موضوع کے لیے اپنا ایک پورا صفحہ مختص کر دیا۔

پولیس کے مطابق یہ ٹانگ ایک ایسے 36 سالہ فٹ بال ہُولیگن کی ہے، جس کا نام گابریئل ڈیل پونٹے تھا، جو منشیات کا عادی تھا اور اپنی زندگی میں کئی مرتبہ چوری، نقب زنی اور منشیات کی تجارت کی وجہ سے جیل بھی جا چکا تھا۔ یہ اطالوی شہری فٹ بال کا شیدائی اور ’لاسِیو روم‘ نامی فٹ بال کلب کا فین تھا، جس کے چاہنے والوں میں کئی ہُولیگن اور فاشسٹ بھی شامل ہیں۔

ڈیل پونٹے کی کاٹ کر پھینکی گئی ٹانگ روم میں اسی ہفتے منگل کے روز سب سے پہلے ایک راہگیر نے دیکھی تھی۔ اس نے پولیس کو مطلع کیا تو تفتیش کاروں نے اس سلسلے میں عوام سے مدد مانگ لی۔ اس پر ڈیل پونٹے کے چند رشتہ داروں نے اس ٹانگ کو شناخت کرتے ہوئے تصدیق کر دی تھی کہ یہ گابریئل ڈیل پونٹے کی ٹانگ تھی۔

ایسا اس لیے ممکن ہو سکا تھا کہ ڈیل پونٹے نے اپنی ٹانگ پر ایک ٹیٹُو بنوا رکھا تھا، جو دراصل ایک تحریر تھی اور اس کا مطلب تھا: ’’آج مرنے کے لیے ایک خوبصورت دن ہے۔‘‘ روم پولیس کے مطابق ڈیل پونٹے گزشتہ ماہ جولائی کے آخر سے لاپتہ ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اب زندہ بھی نہ ہو۔ پولیس کے بقول اسے ایک بار ٹانگ میں ایک گولی بھی لگی تھی، جس کے نتیجے میں ایک آپریشن کے بعد سے وہ لنگڑا کر چلتا تھا۔

اسی دوران آج ہی اطالوی میڈیا میں یہ رپورٹیں بھی شائع ہوئی ہیں کہ بہت زیادہ مجرمانہ پس منظر کا حامل یہ اطالوی ہُولیگن ممکنہ طور پر منشیات کی دنیا سے تعلق رکھنے والے نامعلوم مجرموں کے ہاتھوں قتل ہو چکا ہے، جنہوں نے غالباﹰ اس کی لاش کے ٹکڑے کر کے مختلف جگہوں پر پھینک دیے تھے۔ اسی لیے روم شہر سے ڈیل پونٹے کی محض ایک ٹانگ ہی ملی تھی اور باقی ماندہ جسم کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں ہے۔

پولیس کے مطابق ڈیل پونٹے نے دو سال قبل ایک چوبیس سالہ تیونسی نژاد اطالوی خاتون سے شادی بھی کی تھی لیکن صرف ایک ماہ بعد ہی اس خاتون نے اسے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ باقاعدگی سے نشہ کرتا تھا اور اکثر اپنی بیوی کو بری طرح پیٹتا بھی تھا۔