1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روما شہریوں کی بے دخلی: فرانس کی برہمی

فرانس کے صدر نکولا سارکوزی نے روما شہریوں کی اپنے ملک سے بے دخلی کے حوالے سے دیے گئے پیرس مخالف بیانات پر سخت ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔ یہ موضوع جمعرات کو برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے سربراہی اجلاس پر حاوی رہا۔

default

فرانس کے صدر نکولا سارکوزی

Bundeskanzlerin Merkel und Nicolas Sarkozy

فرانسیسی صدر سارکوزی جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ

فرانس سے روما شہریوں کی بے دخلی نکولا سارکوزی اور ان کے یورپی حلیفوں کے مابین ایک تنازعہ بنی ہوئی ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے روما(خانہ بدوشوں) کے کیمپوں کے حوالے سے صدر سارکوزی کے بیان سے اختلاف کیا ہے، جس کے بعد پیرس اور برلن حکومتوں کے درمیان بھی یہ معاملہ کشیدگی کا باعث بنا ہے۔

برسلز کے اجلاس کے موقع پر صدر سارکوزی نے ایک نیوزکانفرنس سے خطاب میں چانسلر میرکل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے روما شہریوں کو بے دخل کرنے کے لئے فرانسیسی اقدامات کی تقلید کی خواہش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام جرمن سیاست کو متزلزل کر سکتا ہے۔ تاہم میرکل کے ایک ترجمان نے سارکوزی کے اس بیان کی تردید کی ہے۔

سارکوزی نے یورپی یونین کی کمشنر برائے انصاف Viviane Reding کا یہ بیان بھی مسترد کردیا کہ روما شہریوں کی بے دخلی دوسری عالمی جنگ کے واقعات سے کوئی مطابقت رکھتی ہے۔ انہوں نےکہا، ’دوسری عالمی جنگ کے موقع پر یہودیوں کی بے دخلی کی مثال دیتے ہوئے، جو نفرت انگیز اور شرمناک الفاظ استعمال کئے گئے، ہمیں ان سے بہت دُکھ پہنچا۔‘

قبل ازیں رواں ہفتے کے آغاز پر یورپی یونین کی کمشنر برائے انصاف نے یونین پر زور دیا تھا کہ اس معاملے پر پیرس حکومت کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

گزشتہ ماہ سےے اب تک فرانس میں روما شہریوں کے 200 کیمپ ختم کئے جا چکے ہیں جبکہ تقریباﹰ ایک ہزار افراد کو رومانیہ اور بلغاریہ بھیجا گیا ہے۔

Superteaser NO FLASH EU Justizkommisarin Viviane Reding

یورپی یونین کی کمشنر برائے انصاف

فرانسیسی صدر قبل ازیں اپنی حکومت کے اقدامات کو انسانی حقوق اور مائیگریشن پر یورپی یونین کے قانون کے عین مطابق قرار دے چکے ہیں۔

یورپی یونین کے قوانین کے مطابق اس کے رکن ممالک ایسے افراد کو ملک بدر کر سکتے ہیں، جو تین ماہ سے بے روزگار ہوں یا ان کے لئے سماجی بوجھ بنے ہوئے ہوں۔ انہیں ملک میں آمد کے تین ماہ کے دوران ملکی سکیورٹی کے لئے خطرہ بننے کے خدشے کے تحت بھی ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عدنان اسحاق