1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

روما باشندوں کے یورپی معاشروں میں انضمام کی کوششیں

رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ میں ابھی حال ہی میں یورپی یونین کی ایک ایسی دو روزہ کانفرنس منعقد ہوئی، جس کا مقصد روما نسل کے یورپی خانہ بدوشوں کی اقلیتی آبادی سے متعلق ایک امدادی پروگرام کو حتمی شکل دینا تھا۔

default

اس سال اگست میں فرانس سے بے دخل کیا جانے والا ایک روما خاندان رومانیہ میں اپنی عارضی رہائش گاہ کے سامنے

یورپی یونین ماضی میں بھی روما اور سِنتی نسل کے خانہ بدوشوں سے متعلق ایک جامع امدادی پروگرام پر عمل کر چکی ہے۔ لیکن اس سلسلے میں یورپی یونین کی رکن ریاستوں رومانیہ اور بلغاریہ میں ابھی مزید بہت کچھ کئے جانے کی ضرورت ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بلغاریہ اور رومانیہ کی حکومتوں نے اب تک ایسی نسلی اقلیتوں کی سماجی بہتری سے متعلق یورپی سوشل فنڈ کے تحت مہیا کی جانے والی رقوم کافی حد تک استعمال کرنا شروع ہی نہیں کیں۔

Sinti und Roma in Bulgarien

بلغاریہ میں روما اور سنتی نسل کے خانہ بدوشوں کے بچے

یورپی یونین کی ریاستیں اپنے ہاں اقلیتوں کے بہتر سماجی انضمام، مثلاﹰ روما اور سِنتی نسل کے باشندوں کی سماجی حالت کو بہتر بنانے کے لئے یورپی یونین کی طرف سے مہیا کردہ کئی طرح کے مالی وسائل استعمال میں لا سکتی ہیں۔ ان میں بہت اہم سمجھے جانے والے Structural فنڈز بھی شامل ہیں۔

ان فنڈز کے تحت مہیا کردہ رقوم کو خاص طور پر سماجی انضمام اور مہاجرین سے متعلقہ منصوبوں کے لئے بروئےکار لایا جا سکتا ہے۔ لیکن ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ برسلز کی طرف سے مہیا کردہ ایسے مالی وسائل میں یونین کے رکن ملکوں کی طرف سے زیادہ دلچسپی کا اظہار نہیں کیا جاتا۔

اس بارے میں یورپی یونین کے سماجی امور کے کمشنر لاسلو اَوندور نے ابھی حال ہی میں یورپی پارلیمان کی ایک کمیٹی کے سامنے کہا تھا: ’’میں یہ بات زور دے کر کہنا چاہتا ہوں کہ اس معاملے میں مشترکہ ذمہ داری یورپی یونین اور اس کی رکن ریاستوں دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ یونین کے سٹرکچرل فنڈز مختلف ملکوں میں روما باشندوں کی صورتحال میں بہتری کی قومی کوششوں میں بہت مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن یورپی یونین کے یہ مالی وسائل یا تو پوری طرح استعمال میں نہیں لائے جاتے یا انہیں مناسب طریقے سے بروئےکار نہیں لایا جاتا۔‘‘

Laszlo Andor

ہنگری سے تعلق رکھنے والے یورپی یونین کے روزگار اور سماجی امور کے کمشنر لاسلو اوندور

بظاہر یورپی یونین کی وہ ریاستیں ہی ایسے مالی وسائل کا زیادہ بہتر استعمال نہیں کرتیں، جہاں روما باشندوں کی اقلیتی آبادی کی تعداد مقابلتاً بہت زیادہ ہے۔ لاسلو اَوندور کے دفتر کے مطابق رومانیہ کی طرف سے ایسے صرف ایک فیصد مالی وسائل بروئےکار لائے جاتے ہیں جبکہ بلغاریہ سٹرکچرل فنڈز کی ایک ذیلی شاخ، یورپی سوشل فنڈ کے تحت مہیا کردہ رقوم کا صرف پانچ فیصد استعمال کرتا ہے۔

اسی بارے میں یورپی کمیشن ایک ایسا ورکنگ گروپ بھی تشکیل دے چکا ہے، جس کو سال رواں کے آخر تک اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ نسلی اقلیتوں کے بہتر سماجی انضمام میں ناکام رہنے والے ملکوں میں اصل مسائل کیا ہیں؟

اس کے ساتھ ساتھ یورپی کمیشن روما، سِنتی اور دیگر نسلی اقلیتوں کے سماجی انضمام کے معاملات کو اپنے اُن اہداف میں بھی شامل کرنا چاہتا ہے، جن کا تعلق سماجی اور روزگار کی منڈی سے متعلق سیاسی فیصلوں سے ہے اور جو یورپی یونین کے ’ٹوئنٹی ٹوئنٹی ٹارگٹس‘ کہلاتے ہیں۔

ہسپانوی حکومت نے یورپی کمیشن کے تعاون سے ایک ایسا پروجیکٹ شروع کیا تھا، جس کا نام ’یورپی یونین کا روما نیٹ ورک‘ ہے۔ اس نیٹ ورک کی اطلاعات کے مطابق بلغاریہ میں ہر دوسرا روما شہری بے روزگار ہے جبکہ رومانیہ میں خود وہاں کے قومی اعداد و شمار یہ ثابت کرتے ہیں کہ دو تہائی روما باشندوں کے پاس کوئی باقاعدہ ملازمت نہیں ہے۔

یورپی پارلیمان کے قدامت پسند رکن مانفریڈ ویبر کے مطابق روما خانہ بدوشوں میں روزگار کی مجموعی صورتحال میں بہتری کی کوششیں بہت نچلی سطح سے شروع کی جانی چاہئیں۔ اس جرمن سیاستدان کا کہنا ہے کہ اصل بات تعلیم کی ہے اور اس بارے میں خود روما باشندوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

Tag der Roma NO FLASH

بوسنیا کا رہنے والا ایک خانہ بدوش بچہ: روما اور سنتی نسل کے بچے اکثرتعلیم میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں

یورپ میں روما نسل کے خانہ بدوشوں سے متعلق سماجی مسائل پر یوں تو طویل عرصے سے بحث جاری ہے، اور ایسی اقلیتوں کے سماجی انضمام کے لئے یورپی یونین کی طرف سے رقوم بھی طویل عرصے سے مہیا کی جاتی ہیں تاہم یورپ میں پایا جانے والا یہ احساس اپنی جگہ ہے کہ اس بارے میں اصل تشویش کا اظہار حال ہی میں فرانسیسی حکومت کی طرف سے ہزاروں کی تعداد میں روما باشندوں کی جبری بے دخلی اور اس پر یورپی کمیشن کی طرف سے شدید تنقید کے بعد سے ہی کیا جانے لگا ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امجدعلی

DW.COM

ویب لنکس