1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

رومان پولانسکی کی ضمانت پر رہائی جلد ہی متوقع

سوئٹزرلینڈ کی ایک عدالت جلد یہ فیصلہ کرنے والی ہے کہ آیا مشہور فلمی ہدایت کار رومان پولانسکی کو ضمانت پر رہا کر دیا جانا چاہئے۔ سوئس حکام کو پولانسکی کی ضمانت پر رہائی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

default

سوئٹزرلینڈ کی وفاقی عدالت نے پولانسکی کی جانب سے داخل کرائی گئی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے، وفاقی دفتر انصاف کو دس روز کی مہلت دی ہے کہ وہ اپنے اعتراضات عدالت میں پیش کرے، بصورت دیگر پولانسکی کو ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا۔

رومان پولانسکی کو امریکہ میں 70 کی دہائی میں ایک تیرہ سالہ بچی کے ساتھ جنسی رابطوں کے الزام میں مقدمے کا سامنا ہے۔ رومان پولانسکی اپنے اس جرم کا اعتراف کر چکے ہیں تاہم سزا سے بچنے کے لئے وہ امریکہ سے فرار ہو گئے تھے۔ چند ہفتے قبل انہیں سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورچ میں ایک فلمی میلے میں شرکت کے لئے آمد کے موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ انہیں اس میلے میں "لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ" دیا جانا تھا۔

Roman Polanski

سوئس حکام کو پولانسکی کی ضمانت پر رہائی پر کوئی اعتراض نہیں ہے

سوئٹزرلینڈ کے محکمہ انصاف کی طرف سے اس فیصلے پر فوری ردعمل میں کہا گیا ہے کہ اس محکمے کو پولانسکی کی ضمانت کے امکانی فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ سوئس وزیرانصاف Eveline Widmer-Schlumpf نے فیصلے پر اپنے ابتدائی ردعمل میں کہا: ’’کوئی وجہ نہیں کہ اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے۔‘‘

عدالتی فیصلے کے مطابق جب تک سوئس محکمہ انصاف عدالت کو پولانسکی کی ضمانت کے حوالے سے اپنے اعتراض یا رضامندی سے آگاہ نہیں کرتا، اس وقت تک پولانسکی حراست ہی میں رہیں گے۔

فرانس اور پولینڈ کی دوہری شہریت کے حامل 76 سالہ آسکر انعام یافتہ رومان پولانسکی سے متعلق 1977 میں امریکہ میں ان کی طرف سے ایک لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کا جرم ثابت ہو گیا تھا۔ پولانسکی 1978 میں امریکہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق محکمہ انصاف کو اعتراض نہ ہوا تو رومان پولانسکی کو قریب 4.5 ملین ڈالر کی رقم کے عوض ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولانسکی کو اپنی شناخت کے حوالے سے تمام دستاویزات بھی عدالت میں جمع کرانا ہوں گی، جبکہ ان کو مکمل طور پر آزاد کرنے کی بجائے سرکاری حراست کو نظر بندی میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : مقبول ملک

DW.COM