1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رومانیہ کے نائٹ کلب میں آتشزدگی، کم از کم ستائیس افراد ہلاک

یورپی یونین کے رکن ملک رومانیہ کے دارالحکومت کے ایک نائٹ کلب میں آگ لگنے کے نتیجے میں کم از کم ستائیس افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ بخارسٹ میں پیش آنے والے بدترین حادثات میں سے ایک ہے۔

دارالحکومت بخارسٹ سے ہفتہ اکتیس اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق شہر کے Colectiv نامی ایک معروف نائٹ کلب میں جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات، نصف شب کے قریب یہ آگ اچانک اس وقت لگی جب وہاں ایک روک میوزک گروپ Goodbye to Gravity اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ اس میوزک کنسرٹ کے باعث اس وقت اس کلب میں سینکڑوں افراد موجود تھے۔

زخمیوں کو علاج کے لیے مختلف ہسپتالوں میں پہنچایا جا چکا ہے، جہاں طبی ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ 160 سے زائد زخمیوں میں سے کم از کم 25 کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔

اس حادثے کے بعد بخارسٹ میں داخلہ امور کے اسٹیٹ سیکرٹری رعد عرفات نے کہا، ’’یہ اپنی نوعیت کا وہ شدید ترین المیہ ہے، جس کا بخارسٹ نے آج تک سامنا کیا ہے۔‘‘ اے ایف پی نے ملکی وزیر داخلہ گابریئل اوپریا کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس سانحے کے بعد مقامی وقت کے مطابق آج ہفتے کی صبح چھ بجے نیشنل ایمرجنسی کمیٹی کا ایک خصوصی اجلاس بھی شروع ہو گیا، جس میں کئی حکومتی محکموں کے اعلیٰ ترین نمائندے شامل ہیں اور جس میں اس حادثے کی وجوہات اور اس کے نتائج پر غور کیا جا رہا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے عینی شاہدین کے بیانات کے حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس نائٹ کلب میں آگ اس وقت لگی جب روک میوزک شو کے ایک حصے کے طور پر وہاں آتشبازی کی گئی۔ لیکن اس آتشبازی کے نتیجے میں وہاں پہلے ایک ستون کو آگ لگی جس نے کلب کی چھت کے ایک حصے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس دوران وہاں موجود سینکڑوں افراد میں بدحواسی پھیل گئی اور ہر طرف دھواں بھر چکا تھا۔

یہ غیر متوقع صورت حال اس کلب میں بھگدڑ کی وجہ بنی اور وہاں موجود شائقین نے باہر نکلنا چاہا، جس دوران بہت سے لوگ کچلے بھی گئے۔ اس کلب میں سے ایسے کسی حادثے کی صورت میں ہنگامی حالت میں ہر کسی کا بحفاظت باہر نکلنا بظاہر اس لیے بھی مشکل تھا کہ یہ نائٹ کلب ایک ایسے سرنگ نما تہہ خانے میں قائم ہے، جو کمیونسٹ دور حکومت میں تعمیر کیا گیا تھا۔

Rettungskräfte nach einem Brand in einem Nachtclub in Bukarest

یہ نائٹ کلب کمیونسٹ دور کے ایک زیر زمین بیسمنٹ میں قائم ہے

ایک عینی شاہد نے آتشزدگی کے بعد اس زیر زمین نائٹ کلب کی صورت حال بیان کرتے ہوئے بتایا، ’’ہر طرف دھوں بھرا ہوا تھا۔ لوگ بے ہوش ہو کر گر رہے تھے۔ ہر طرف بدحواسی اور بھگدڑ کی کیفیت تھی اور بے شمار لوگ پاؤں کے نیچے کچلے بھی گئے۔‘‘

ملکی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق زخمیوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کی بھگدڑ میں کچلے جانے کی وجہ سے ٹانگیں ٹوٹ گئیں جبکہ بہت سے دیگر افراد کو اس زہریلے دھوئیں نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا، جو یکدم ہر طرف پھیل جانے والی آگ کے باعث دیکھتے ہی دیکھتے اس پورے نائٹ کلب میں بھر گیا تھا۔

رومانیہ کی وزارت داخلہ کے مطابق ستائیس ہلاک شدگان میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جبکہ زخمیوں کی حتمی تعداد 162 ہے، جو بخارس‍ٹ کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

ملکی صدر کلاؤس اِیوہانِس نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی ’دارالحکومت کے عین وسط میں پیش آنے والا یہ ایسا بہت بڑا المیہ ہے، جس پر ہر کوئی شدید رنج و الم کا شکار ہے‘۔ انہوں نے کہا، آج کا دن ہماری قوم کے لیے انتہائی افسوسناک دن ہے۔‘‘

DW.COM