1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

رومانیہ کی کم عمر ماؤں کی مشکل زندگیاں

یورپی یونین کے ملک رومانیہ میں ہر برس 2000 سے زائد لڑکیاں 16 سال سے کم عمر میں ماں بن جاتی ہیں۔ یہ کم عمر مائیں اکثر اپنی تعلیم مکمل نہیں کر پاتیں اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتی ہیں۔

’’خدا نے مجھے ایک خوبصورت بیٹی عطا کی ہے لیکن زندگی میرے لیے بہت مشکل ہے کیونکہ میں خود ابھی ایک بچی ہوں‘‘، یہ کہنا ہے لورینا کا، جس کا شمار رومانیہ کی ان 2000 لڑکیوں میں ہوتا ہے جو ہر سال 16 سال کی عمر کو پہنچنے سے قبل ہی ماں بن جاتی ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق 15 سالہ لورینا دیگر سات خاندانوں کے ہمراہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ ایک عمارت میں رہ رہی ہے۔ لورینا کے مطابق وہ ماں نہیں بننا چاہتی تھی۔ اسی علاقے سے کچھ دور 15 سالہ ڈیانا بھی رہتی ہے۔ ڈیانا کا کہنا ہے کہ جب اسے پتا چلا کہ وہ حاملہ ہے تو اسے بہت دکھ اور افسوس ہوا، وہ کہتی ہے،’’ اس کے بعد میری زندگی بدل گئی ہے۔‘‘ ڈیانا کے بچے کے والد نے اپنی اولاد کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کر دیا تھا اور اب ڈیانا اپنے بچے کے ساتھ اپنی والدہ اور چھ بہن بھائیوں کے ساتھ رہتی ہے۔

یورپی یونین کے اعدادو شمار کے مطابق رومانیہ میں سن 2013 میں اپنے والدین کے ہاں پیدا ہونے والے پہلے بچوں میں سے 5.61 فیصد ایسے تھے، جن کی مائیں ٹین ایج لڑکیاں تھیں۔ س فہرست میں رومانیہ کے بعد بلغاریہ کا نام آتا ہے اور وہاں یہ شرح 14.7 فیصد ہے۔

رومانیہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سن 2014 میں 18 ہزار 600 نوجوان بچیاں مائیں بنی تھیں اورمیں سے 2212 بچیوں کی عمر 12 سے 15 سال تھی۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق دیہی علاقوں سے تھا۔

سماجی اداروں کی رائے میں زیادہ تر نوجوان ماؤں کا تعلق رومانیہ کی اقلیت ’روما‘ سے ہے۔ اس صورتحال کے حوالے سے رومانیہ میں سیو دا چلڈرن کی سربراہ گیبریئیالا الیکزینڈریسکو کا کہنا ہے،’’ نوجوانی میں ماں بننے کے عمل کی بہت سی وجوہات ہیں جیسے کہ غربت اور نقل مکانی۔ بہت سے دیہی علاقوں میں نوجوانوں کو صحت کے حوالے سے تعلیم نہیں دی جاتی۔ کم عمری میں ماں بننا لڑکیوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ گیبریئیالا کا کہنا ہے کہ جلد ماں بننے والی بچیوں کو اسکول چھوڑنا پڑتا ہے اور وہ اکثر ڈپریشن کا شکار بھی ہو جاتی ہیں۔

گزشتہ برس 60 سماجی تنظیموں نے رومانیہ کی وزارت تعلیم سے کہا تھا کہ وہ اسکولوں میں صحت سے متعلق تعلیم کو یقینی بنائیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق نے رومانیہ کی حکومت پر زور ڈالا تھا کہ وہ جسمانی اور تولیدی صحت پر ایک قومی حکمت عملی کو اپنائے۔ کچھ سماجی تنظیمیں ان اقدامات کے خلاف ہیں۔ ان کی رائے میں ان بچیوں کے والدین کو آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے تاہم گیبریئیالا کی رائے میں سماجی اور صحت کی سہولیات ہی اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد فراہم کر سکتی ہیں۔

ڈیانا کی زندگی کم عمری میں ماں بننے سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔اس کے بقول کہ وہ اب کبھی شادی نہیں کرے گی تاکہ اس کی کوئی اور اولاد نہ ہوسکے۔

DW.COM