1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

رومانیہ میں پون چکیوں کی تنصیب کی ہوش رُبا رفتار

گزشتہ چند برسوں کے دوران ہوا سے توانائی کے حصول کی صنعت نے بھارت کے ساتھ ساتھ مغربی یورپ، امریکہ اور چین میں بھی بے پناہ ترقی کی ہے۔ اب ہوش رُبا رفتار سے مشرقی یورپ بھی اس شعبے میں آگے آ رہا ہے۔

default

اس سلسلے میں سب سے روشن مثال رومانیہ کی ہے، جہاں ہوا عام طور پر بہت زیادہ تیز چلتی ہے۔ ایسے میں یہ بات باعث تعجب نہیں ہے کہ یورپ کے بجلی فراہم کرنے والے بہت سے ادارے اسی ملک میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور خشکی پر یورپ کا سب سے بڑا وِنڈ پارک رومانیہ ہی میں وجود میں آ چکا ہے۔ اس پارک کی مدد سے کوئلے سے چلنے والے ایک بڑے بجلی گھر جتنی یعنی تقریباً 600 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر ملکی اداروں نے رومانیہ کے پون چکیوں کے منصوبوں میں ایک ارب یورو سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہے حالانکہ رومانیہ میں قواعد و ضوابط ہمیشہ اتنے آسان بھی نہیں تھے۔ رومانیہ میں توانائی کے قابل تجدید ذرائع کو فروغ دینے کا قانون 2008ء میں متعارف کروایا گیا تھا تاہم یہ اُس وقت تک لاگو نہیں ہو سکتا، جب تک کہ یورپی کمیشن اس کی منظوری نہ دے دے۔ کہیں اس سال موسم گرما میں یہ قانون یورپی کمیشن کی منظوری حاصل کرنے کے لیے برسلز تک پہنچ پایا ہے۔

رومانیہ کے ونڈ پارک منصوبوں کی چیئر پرسن ڈانا دُوئیکا

رومانیہ کے ونڈ پارک منصوبوں کی چیئر پرسن ڈانا دُوئیکا

رومانیہ کے ونڈ پارک منصوبوں کی چیئر پرسن ڈانا دُوئیکا کے مطابق یہ تاخیر رومانیہ میں وِنڈ پارکس میں سرمایہ کاری کے لیے سب سے زیادہ مسائل کا باعث بن رہی ہے:’’ابھی ہمارے ہاں ٹھوس قانونی دائرہ کار کی کمی ہے۔ 2008ء میں توانائی کے قابل تجدید ذرائع کے فروغ کا قانون متعارف کروائے جانے کے بعد سے مختلف کاروباری اور صنعتی اداروں نے سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں۔ تاہم اتنے سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک بھی اس قانون پر عملدرآمد نہیں ہو پا رہا ہے۔ اس تاخیر کے باعث پون چکیوں کے منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی مشکلات کا شکار ہو رہی ہے۔‘‘

یورپی یونین کے اقتصادی اعتبار سے کمزور ترین ممالک میں سے ایک رومانیہ میں، ان مشکلات کے باوجود ہوا سے توانائی کے منصوبوں پر کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ جہاں 2009ء میں یون چکیوں سے حاصل ہونے والی بجلی بیس میگا واٹ سے بھی کم تھی، وہاں یہ اس سال کے آخر تک بڑھ کر ایک ہزار میگا واٹ تک جا پہنچے گی اور یہ بجلی کی وہ مقدار ہے، جو ایک عام ایٹمی بجلی گھر سے حاصل کی جاتی ہے۔

خشکی پر یورپ کا سب سے بڑا وِنڈ پارک رومانیہ ہی میں وجود میں آ چکا ہے

خشکی پر یورپ کا سب سے بڑا وِنڈ پارک رومانیہ ہی میں وجود میں آ چکا ہے

ان میں سے زیادہ تر پون چکیاں بحیرہ اسود کے تیز رفتار ہوا کے حامل ساحلوں پر نصب کی گئی ہیں۔ توانائی کے ان منصوبوں پر خاص طور پر چیک ری پبلک، اسپین، پرتگال، اٹلی اور آسٹریا کے سرمایہ کار پیسہ خرچ کر رہے ہیں۔ پون چکیوں کی مدد سے رومانیہ کے تقریباً آٹھ ملین گھرانوں کی ایک چوتھائی تعداد کو بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔

اگرچہ نئی چکیوں کی وجہ سے رومانیہ میں بجلی کی قیمت میں اس سال سے 2.3 فیصد کا اضافہ ہو گیا ہے تاہم ڈانا دُوئیکا کہتی ہیں:’’طویل المدتی بنیادوں پر صارفین کے لیے ہوا سے حاصل ہونے والی بجلی کے نتائج مثبت رہیں گے۔ بجلی شرع میں تو مہنگی ہو گی لیکن پھر یہ قیمتیں مستحکم ہو جائیں گی بلکہ اگلے مرحلے میں کم بھی ہو جائیں گی۔‘‘

قیمتیں کم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہو گی کہ پون چکیوں کو چلانے میں کسی قسم کا ایندھن خرچ نہیں کرنا پڑتا۔

رپورٹ: الیگذانڈرا شیرلے / امجد علی

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس