1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رومانیہ میں تاوان کے لیے اغواء ہونے والے سات پاکستانی رہا

رہائی پانے والے یہ تمام افراد سات ماہ قبل غیر قانونی طور پر سمندری راستے سے یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہیں دیگر آٹھ پاکستانیوں سمیت بحری قزاقوں نے رومانیہ میں اغوا کرلیا تھا۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے پندرہ نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں سات ماہ قبل غیر قانونی طورپر یورپ جانے کی کوشش میں تھے۔ انہیں رومانیہ میں بحری قزاقوں نے اغوا کر کے دیگر اغواکاروں کو فروخت کر دیا تھا۔  رہائی پانے والوں میں چھ افراد کا تعلق سوات جبکہ ایک کا تعلق نوشہرہ سے ہیں۔

سوات سے تعلق رکھنے والے عبدالجبار خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ان کا بھتیجا شمشیر علی بھی ان پندرہ نوجوانوں میں شامل تھا۔ اغوا کار بار بار تاوان کی رقم کا مطالبہ کر رہے تھے اور یرغمال افراد کو تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے: ’’ہم نے ادھر اُدھر سے قرضے لے کر پیسے اکٹھے کیے اور ایک ایجنٹ کے ذریعے فی نفر دو لاکھ پچاس ہزار روپے تاوان دے کر اپنے پیاروں کی رہائی ممکن بنائی۔‘‘

رومانیہ میں اغواکاروں کی قید سے رہائی پانے والے افراد کے رشتہ داروں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا اور حکومت سے اپنے پیاروں کی رہائی میں امداد کی اپیل بھی۔ رہائی پانے والے سوات کے چھ افراد کے گھروں میں عید کا سماں ہیں۔ رہائی پانے والے شمشیر علی کی والدہ زُہرا بی بی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جب ہمیں خبر ملی کہ میرے بیٹے کو رہائی مل گئی ہے تو ہمارے گھر میں جیسے خوشیوں کی بہار آگئی: ’’ہم نے اپنے پیاروں کی رہائی کے لیے لوگوں سے قرضے لے کر تاوان کی رقم ادا کی جبکہ حکومت نے ہماری کوئی مدد نہیں کی۔ زہرا بی بی نے مزید بتایا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کا بیٹا واپس گھر آجائے لیکن وہ اب ترکی میں ہے اور واپس نہیں آنا چاہتا: ’’ہم نے اپنے بیٹے کو یورپ بھیجنے کے لیے ڈھیر ساری رقم ادھار لی ہے اور ادھار کی رقم کے خاتمے تک میرا بیٹا یورپ میں ہی رہنا چاہتا ہے۔‘‘

شمشیر علی کی طرح اغواکاروں کی قید سے رہائی پانے والے دیگر چھ افراد بھی اب ترکی میں ہیں اور وہ واپس آنا نہیں چاہتے۔ ترکی میں موجود سوات کے علاقے کوزہ بانڈی سے تعلق رکھنے والے ہلال نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اغواکاروں نے اُن پر دن رات تشدد کیا اور نہ انہیں کھانے کو کچھ دیا اور نہ پینے کو: ’’ہمیں رومانیہ میں پہلے بحری قزاقوں نے اغوا کیا تھا اور پھر ایک اور اغواکار گروپ کو فروخت کر دیا۔ اغواکاروں میں کچھ افغانی بھی تھے جو ہم سے پشتو میں بات کرتے تھے۔ ‘‘ لال نے مزید بتایا کہ ہر دن انہیں ایسا لگتا تھا کہ انہیں مار دیا جائے گا: ’’ہمیں ڈنڈوں سے مارا جاتا اور بھوکا پیاسا رکھا جاتا۔ ہم واپس اپنے ملک جانا چاہتے ہیں مگر جو رقم ہمارے گھر والوں نے ہماری رہائی کے لیے قرض لی ہے اُس رقم کا بندوبست ہونے تک ہم یہاں ہی رہنا چاہتے ہیں تاکہ ہم خالی ہاتھ واپس گھر نہ جائیں۔‘‘

رومانیہ میں بحری قزاقوں نے پندرہ پاکستانیوں کو اغوا کیا تھا ان میں سے سات کی رہائی تو ممکن ہوئی مگر باقی آٹھ پاکستانیوں کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدنان باچا، سوات