1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

رومانیہ بھی بارڈر سکیورٹی بڑھائے گا

رومانیہ نے بھی کہہ دیا ہے کہ وہ سربیا سے متصل اپنی سرحدی گزرگاہوں پر نگرانی سخت کر دے گا تاکہ غیرقانونی مہاجرین کی آمد کے سلسلے کو روکنے میں مدد مل سکے۔ قبل ازیں ہنگری سمیت متعدد یورپی ممالک ایسے ہی اقدامات اٹھا چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے بخارسٹ حکومت کے حوالے سے بتایا ہے کہ سربیا سے آنے والے غیر قانونی مہاجرین کے راستے روکنے کی خاطر اقدامات اٹھائیں جائیں گے۔ رومانیہ کی وزارت خارجہ کے مطابق سربیا کی سرحدی گزرگاہوں پر کڑی نگرانی کے علاوہ سرحدی محافظوں کی اضافی نفری بھی تعینات کی جائے گی۔

رومانیہ کی وزارت خارجہ نے اگرچہ اس حوالے سے کوئی ٹھوس منصوبہ بیان نہیں کیا ہے تاہم بتایا گیا ہے کہ سربیا سے ملحق سرحدوں پر سدھائے ہوئے کتوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ غیر قانونی مہاجرین کی ملک میں آمد کو روکنے کے لیے خصوصی ہیلی کاپٹروں کی بھی مدد لی جائے گی۔ اسی طرح انفرا ریڈ کیمروں کو نصب کرنا بھی اس منصوبے کا حصہ بتایا گیا ہے۔

گیارہ ماہ قبل رومانیہ کے ہمسایہ ملک ہنگری نے سربیا اور کروشیا سے متصل اپنی سرحدی گزر گاہوں کو بند کر دیا تھا تاہم سربیا سے رومانیہ داخل ہونے والے مہاجرین کی تعداد پھر بھی انتہائی کم رہی ہے۔

امکان ہے کہ سربیا سے رومانیہ داخل ہونے والے مہاجرین بعدازاں یوکرائن کے راستے سلوواکیہ یا پولینڈ جانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

گزشتہ برس کے دوران کم از کم ایک ملین مہاجرین اور تارکین وطن، بلقان کے راستے مغربی یورپی ممالک میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ بلقان کے راستوں کو رواں برس مارچ میں اس وقت باقاعدہ طور پر بند کر دیا گیا تھا، جب ترکی اور یورپی یونین کی ڈیل طے پائی تھی۔

Deutschland ungarische Soldaten schließen den Grenzzaun zu Serbien bei Roszke

ہنگری پہلے ہی سربیا سے متصل اپنی سرحدوں کو بند کر چکا ہے

اس ڈیل کے تحت انقرہ حکومت کو پابند بنایا گیا تھا کہ وہ اپنے ہاں سے غیرقانونی طور پر بحیرہء ایجیئن کے راستے یورپی یونین میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کو روکے اور یونان پہنچنے والے مہاجرین کو دوبارہ قبول کرے علاوہ ازیں اپنے ہاں موجود مہاجرین کی بہبود کے لیے اقدامات بھی کرے۔