1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روشن مستقبل کی تلاش میں،200 افراد ڈوب گئے

انڈونیشیا کے جزیرے جاوا کے قریب غیر قانونی تارکین وطن کی ایک کشتی ڈوبنے سے دو سو افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔کشتی میں سوار افراد کا تعلق پاکستان، افغانستان، عراق اور ایران سے تھا۔

default

انڈونیشیا سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق کشتی پر تقریباﹰ ڈھائی سو غیرقانونی تارکین وطن سوار تھے، جن میں سے 33 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے امدادی کارکنوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ خراب موسم کے باعث بچاؤ کی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ امدادی کارکنوں کے مطابق کشتی میں سوار دو بچوں کو بھی بچا لیا گیا ہے، جن کی عمریں آٹھ اور دس برس کے درمیان ہیں۔ یہ کشتی ہفتے کی شام ڈوبی جبکہ ریسکیو ٹیمیں حادثے کے پانچ گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔

Flüchtlinge Unglück Australien Küste Flash-Galerie

خراب موسم کے باعث بچاؤ کی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں

بتایا گیا ہے کہ دراصل یہ مچھیروں کی ایک روایتی کشتی تھی، جس پر ایک سو افراد کی گنجائش تھی۔ بچ جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملکوں کی سیاسی اور معاشی صورتحال سے تنگ آچکے تھے اور اور روشن مستقبل کی تلاش میں آسٹریلیا جانا چاہتے تھے۔ ریسکیو ٹیم کے سربراہ لیفٹینینٹ علوی مُدذاکر کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد کے سوار ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔ ان کے مطابق کشتی میں 250 کے قریب مرد، عورتیں اور بچے سوار تھے۔

240 ملین اور سترہ ہزار سے زائد جزائر پر مشتمل انڈونیشیا میں کشتیاں آمدو رفت کا ایک مقبول اور بنیادی ذریعہ ہیں اور آسٹریلیا کے لیے انسانی اسمگلنگ کے اہم روٹس بھی یہاں سے نکلتے ہیں، تاہم حفاظتی اقدامات کی کمی اور گنجائش سے زیادہ مسافرسوار کرنے کے باعث انہیں اکثر حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔

کشتی پر سوار ایک 24 سالہ افغان مسافر کا کہنا تھا، ’’کشتی کی حالت بہتر نہیں تھی، جونہی کشتی نے ڈولنا شروع کیا تو وہاں افراتفری پھیل گئی اور کشتی الٹ گئی۔ میں اور چند دوسرے افراد ٹوٹی ہوئی کشتی کے تختوں سے لپٹے رہے، یہاں تک کہ ہمیں بچا لیا گیا۔‘‘

Cap Anamur Boat People gerettet

اندازوں کے مطابق کشتی پر کم از کم 40 بچے سوار تھے

اس افغان باشندے کے اندازوں کے مطابق کشتی پر کم از کم 40 بچے سوار تھے۔

ریسکیو ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں تاہم اب یہ امید دم توڑ گئی ہے کہ کوئی زندہ بچا ہو گا۔ ان کے مطابق ریسکیو آپریشن میں چار کشتیاں ایک نیوی ہیلی کاپٹر سمیت ایک نیوی جنگی جہاز شامل ہے۔

علوی مُدذاکر کے مطابق کشتی کے 50 کلومیٹر رداس میں پروازیں جاری ہیں اور ابھی تک انہیں کوئی بھی مزید زندہ فرد نہیں ملا ہے۔ ان کے مطابق اس شدید موسم میں کوئی بھی انسان پانی میں 24 گھنٹے سے زائد عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM