1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

روشنی سے تیز رفتار ذرے کا وجود، ماہرین کا نیا دعویٰ

بین الاقوامی سائنسدانوں نے ایک بار پھر یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہیں روشنی سے بھی تیز رفتار اور ایٹم سے بھی چھوٹے ذرے ہِگز بوسون کی موجودگی کے آثار ملے ہیں۔

default

ہِگز بوسون بنیادی اہمیت کا حامل ایک ایسا ’سب اٹامک‘ ذرہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’بگ بینگ‘ کے بعد کائنات کی تخلیق میں اسی ذرے نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

ہِگز بوسون نامی ذرے کی موجودگی کا تصور پہلی مرتبہ نظریاتی طبیعات یا تھیوریٹیکل فزکس کے برطانوی ماہر پیٹر ہِگز نے پیش کیا تھا۔ اس وقت 82 برس کی عمر کے اس برطانوی سائنسدان نے 1964 میں پہلی بار ایسے کسی ذرے کی موجودگی کا ذکر کیا تھا۔ ان کے نزدیک یہی ذرہ مادے اور توانائی کے بارے میں ایک عظیم تر نظریے کی گمشدہ کڑی ہے۔

منگل تیرہ دسمبر کے روز جب سائنسدان یہ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے ہِگز بوسون کے وجود سے متعلق نئے شواہد دریافت کیے ہیں، تو اس وقت خود پیٹر ہِگز بھی ذ‌اتی طور پر ایڈنبرا یونیورسٹی کے اپنے ساتھی ماہرین کے ہمراہ ایک ویب کاسٹ کے ‌ذریعے یہ اعلان سن رہے تھے۔ پیٹر ہِگز ابھی بھی ایڈنبرا یونیورسٹی کے ایک اعزازی پروفیسر ہیں۔

Physiker Peter Higgs

تھیوریٹیکل فزکس کے برطانوی ماہر پیٹر ہِگز

اس اعلان کے بعد پیٹر ہِگز کے ایک ساتھی نے اس معروف سائنسدان کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ ان کے لیے فوری طور پر یہ وقت نہ تو خوشیاں منانے کا ہے اور نہ افسوس کرنے کا۔ مطلب یہ کہ ہِگز بوسون نامی ذرے کی موجودگی اور عدم موجودگی کے بارے میں سائنسدانوں کی طرف سے دعوے تو کیے جا رہے ہیں تاہم ابھی تک اس سب اٹامک پارٹیکل کا وجود حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا۔

اس ذرے کے بارے میں جو دو تازہ ترین تجربے کیے گئے، انہیں Atlas اور CMS کے نام دیے گئے تھے۔ ان تجربات کی سربراہی کرنے والے ماہرین نے جنیوا کے نواح میں CERN فزکس ریسرچ سینٹر میں ایک سیمینار کے شرکاء کو بتایا کہ انہوں نے لارج ہاڈرون کولائیڈر یا LHC میں تقریباﹰ روشنی کی سی رفتار سے دو ذروں کو ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح ٹکرانے کی کوشش کی کہ یوں ہگز بوسون نامی ذرے کی ممکنہ باقیات اور آثار کا پتہ چلایا جا سکے۔

اس اعلان کے بعد کئی ماہرین نے اس بارے میں خبردار بھی کیا کہ اس شعبے میں نئی تحقیق کے نتائج تاحال حتمی نہیں ہیں۔ یعنی ابھی تک ہِگز بوسون سے متعلق شواہد کا اتنے یقین کے ساتھ ذکر نہیں کیا جا سکتا کہ اس تحقیق کو ایک نئی دریافت کا نام دیا جا سکے۔

ہگز بوسون نامی ممکنہ ذرے کو کئی ماہرین God particle کا نام بھی دیتے ہیں۔ فزکس کے اسٹینڈرڈ ماڈل کے مطابق 13.7 بلین سال قبل جب بِگ بینگ کے نتیجے میں کائنات کا وجود ممکن ہوا تھا تو اس میں ہگز بوسون یا ’گاڈ پارٹیکل‘ کا کردار فیصلہ کن تھا۔ اس لیے کہ تب مادے کو اس کا حجم اور توانائی اسی ذرے کی بدولت ملے تھے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM