1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

روس۔ یوکرائن گیس تنازعے پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی

یورپی یونین، روس اور یوکرائن کے حکّام کے درمیان روس یوکرائن گیس تنازعے پر مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے ہیں۔

default

یورپی صارف کے لیے یہ بات اہم نہیں ہے کہ تنازعہ یوکرائن نے کھڑا کیا ہے یا روس نے

برسلز میں یورپی یونین، روس اور یوکرائن کے حکّام کے درمیان طے شدہ مزید مذاکرات منسوخ کردیے گئے ہیں۔ قیمتوں اور نئے ٹھیکوں پر تنازعے کی وجہ سے روس نے براستہ یوکرائن یورپ کو قدرتی گیس کی فراہمی بند کردی ہے اور اس حوالے سے یورپ میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ یورپی یونین تنازعے کے حل کے لیے کوششوں میں مصروف ہے تاہم اب تک یہ کوششیں ثمرآور ثابت نہیں ہو سکی ہیں۔

Gasstreit Russland Ukraine Gazprom

تنازعے کے حل کے لیے یورپی کمشن کے صدر غوزے مانوئل باروسونے روسی گیس کمپنی گیزپروم کے چیف ایکزیکٹو الیکسی ملر اور بعد اذاں یوکرائن کی نافٹوگیز کے سربراہ سے بھی ملاقات کی

واضح رہے کہ یورپی یونین کے ستائیس ممالک کی گیس کی ضروریات کا ایک چوتھائی روس پورا کرتا ہے جو یوکرائن کے راستے سے یورپی ممالک تک پہنچتی ہے۔ یورپ میں شدید سردی کے دوران روسی گیس کی فراہمی میں رکاوٹ یورپی ممالک کے لیے پریشانی کا سبب بن رہی ہے۔

تنازعے کے حل کے لیے یورپی کمشن کے صدر غوزے مانوئل باروسونے روسی گیس کمپنی گیزپروم کے چیف ایکزیکٹو الیکسی ملر اور بعد اذاں یوکرائن کی نافٹوگیز کے سربراہ سے بھی ملاقات کی۔ تاہم اب تک یورپی یونین کی کوششوں کا کوئی حل نکلتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

Ukraine Land und Leute Mann vor Lenin Denkmal in Donetsk

یورپ میں شدید سردی کے دوران روسی گیس کی فراہمی میں رکاوٹ یورپی ممالک کے لیے پریشانی کا سبب بن رہی ہے


یورپی یونین کی بے چینی کا اندازہ باروسو کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے:’’یہ بات اہم ہے کہ یہ تفریق کی جائے کہ روسی گیس کی یورپی ممالک کو فراہمی ایک علیحدہ مسئلہ ہے جب کہ روس اور یوکرائن کے درمیان گیس کی پیمتوں پر تنازعے سے متعلق بات چیت ایک علیحدہ موضوع ہے۔‘‘

Gasstreit Russland Ukraine Symbolbild

یوکرائن کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ یورپی یونین کو گیس کی بلا روک فراہمی کی پاسداری کرنے کے لیے تیّار ہے تاہم یہ تبھی ممکن ہے جب یورپ کو فراہم کرنے کے لیے کوئی گیس موجود ہو

یورپی کمیشن کے سربراہ غوزے مانیئل باروسو نے روس اور یوکرائن دونوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کی گیس فراہمی کو ’یرغمال‘ بنائے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے:’’یوکرائن یورپی یونین سے قربت چاہتا ہے مگر اسے یہ بات سمجھنا چاہیے کہ یورپی یونین کے لیے گیس کی سپلائی میں رکاوٹ ڈال کر ایسا ممکن نہیں ہوگا۔‘‘

یوکرائن کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ یورپی یونین کو گیس کی بلا روک فراہمی کی پاسداری کرنے کے لیے تیّار ہے تاہم یہ تبھی ممکن ہے جب یورپ کو فراہم کرنے کے لیے کوئی گیس موجود ہو۔ یوکرائن کا واضح اشارہ روس کی جانب ہے جہاں سے گیس کی سپلائی روک دی گئی ہے۔

تاہم یوکرائن، روس اور یورپی یونین کے درمیان تنازعے اور مذاکرات سے قطع نظر یورپ کے عوام گیس میں کمی کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور اپنی حکومتوں سے اس حوالے سے عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے باروسو کا کہنا ہے کہ یورپی صارف کے لیے یہ بات اہم نہیں ہے کہ تنازعہ یوکرائن نے کھڑا کیا ہے یا روس نے۔ اگر گیس کی فراہمی میں خلل جاری رہا تو پھر یورپی یونین کو کسی نتیجے تک پہنچنا ہوگا۔

DW.COM