1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

روس یوکرائن گیس تنازعے سے یورپ بھی متاثر

یورپی یونین نے روس اور یوکرائن کے درمیان گیس تنازعے کے حوالے سے فریقین کے ساتھ یورپی یونین کا ایک مشترکہ اجلاس بلانے پر غور شروع کردیا ہے۔

default

ستائیس ممالک پر مشتمل یورپی یونین کی گیس کی ضروریات کا ایک چوتھائی حصّہ روس فراہم کرتا ہے

گیس تنازعے کے نتیجے میں جرمنی سمیت یورپ کے متعدد ممالک میں گیس کی قلّت شروع ہوگئی ہے۔

Ukraine Russland Gas

یورپی یونین کے صدر ملک چیک جمہوریہ نے تنازعے کے حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں

یورپی یونین نے روس کی جانب سے براستہ یوکرائن قدرتی گیس کی یورپ کو فراہمی میں کمی کی شدید مذمت کی ہے اور اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ یورپی یونین نے روس سے گیس کی فراہمی مکمل طور پر فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


حالیہ دنوں میں گیس کی قیمت سے متعلق روس اور یوکرائن کے درمیان تنازعے کے نتیجے میں روس نے قدرتی گیس کی فراہمی میں کمی کردی تھی۔ واضح رہے کہ ستائیس ممالک پر مشتمل یورپی یونین کی گیس کی ضروریات کا ایک چوتھائی حصّہ روس فراہم کرتا ہے، جس کا اسّی فیصد حصّہ براستہ یوکرائن آتا ہے۔

BdT Schnee auf der goldenen Kuppel der Alexander Nevski Kathedrale Bulgarien

بلغاریہ بیشتر یورپی ممالک کی طرح شدید سردی کی لپیٹ میں ہے اور یہاں روسی گیس کی فراہمی مکمل طور پر بند ہو چکی ہے

یورپی یونین نے گیس تنازعے کے حوالے سے روس اور یوکرائن کے درمیان دو طرفہ مذاکرات کو طویل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے اثرات یورپی ممالک پر پڑنا شروع ہوگئے ہیں۔

گیس درآمد کرنے والی جرمنی کی دو بڑی کمپنیوں نے منگل کے روز کہا ہے کہ تنازعے کے اثرات جرمنی پر پڑنا شروع ہوگئے ہیں،جہاں یورپ کے بیشتر ممالک کی طرح شدید سردی میں گیس کے استعمال میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جن دیگر یورپی ممالک میں روس یوکرائن گیس تنازعے کے اثرات پڑنا شروع ہوگئے ہیں ان میں آسٹریا، بوسنیا اور چیک جمہوریہ شامل ہیں۔

آسٹریا میں روسی گیس کی فراہمی نوّے فیصد تک گر گئی ہے۔

بوسنیا میں پچّیس فیصد۔

یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک جمہوریہ چیک میں پچھتّر فیصد۔

ہنگری میں ستائیس فیصد۔

بلغاریہ، کروایشیا، یونان، مقدونیا اور ترکی میں روسی گیس کی فراہمی مکمل طور پر بند ہوچکی ہے۔