1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس یوکرائن گیس تنازعہ حل

روس اور یوکرائن کے مابین دو ہفتوں سے جاری گیس تنازعہ کا خاتمہ گزشتہ روز دونوں ممالک کے مایبن طے پائے جانے والے ایک معاہدے پر دستخط سے ہوا۔

default

یوکراین کی وزیر اعظم ژولیا تیموچنکو اور روسی گیس کمپنی کے سربراہ Alexei Miller

جس کے بعد یوکرائن کے راستے مغربی یورپی ملکوں کو گیس کی فراہمی پیر اور منگل کی درمیانی رات بحال کردی گئی۔ آج روس کی سرکاری گیس کمپنی گیس پروم کے سربراہ Alexej Miller نے ایک بین الاقوامی گیس کونسرشیم کے قیام کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔

Neuer Gasvertrag zwischen Russland und der Ukraine

معاہدے کے دوران، روس اور یوکرائن کے وزرائے اعظم بھی موجود ہیں

روسی وزیر اعظم ولادیمیر پوٹن کے مطابق روس اور یوکرائن کے گیس تنازعہ سے متعلق دو بنیادی نوعیت کے معاہدے طے پائے ہیں۔ ایک کا تعلق روسی گیس کی یوکرائن کے ذریعے مغربی یورپی ممالک سپلائی سے ہے جبکہ دوسرا معاہدہ کی ایف اور ماسکو کے مابین گیس کی تجارت سے ہے۔ معاہدوں کے بارے میں روسی وزیر اعظم ولادیمیر پوٹن کا کہنا ہے: ’’روس اور یوکرائن کے مابین گیس کی تجارت سے متعلق ہونے والا معاہدہ طویل المعیاد ہے جو دس سال کے لئے طے پایا ہے جبکہ روسی گیس کی یوکرائن کے راستے یورپی ممالک کو ترسیل سے متعلق جس دوسرے معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں وہ بھی دس سال کے لئے طے پایا ہے۔ اس کے ذریعے روسی گیس کمپنی ’گیس پروم‘ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ یوکرائن کے راستے یورپی ممالک کو روسی گیس کی فراہمی کے تمام تر انتظامات سنبھالے۔‘‘

Neuer Gasvertrag zwischen Russland und der Ukraine

روس اور یوکرائن گیس معاہدے کے بعد روسی گیس کمپنی کے سربراہ اور یوکراین توانائی کمپنی کے صدر ،مصافحہ کر ہے ہیں۔

ادھر روسی گیس کمپنی ’گیس پروم‘ کے سربراہ Alexej Miller نے اس امر کی طرف نشاندہی کی ہے کہ گیس کی فراہمی تسلسل کے ساتھ اس وقت تک ممکن ہے جب تک روس کو گیس سپلائی کے اخراجات کی ادائیگی میں کسی تاخیر یا رقم کی عدم ادائیگی جیسے مسائل کا سامنا نہ ہو۔ گیس پروم اس شرط پر پڑوسی یورپی ممالک کو گیس سپلائی کرے گی کہ یورپی ممالک اسے ایک ماہ کے اخراجات کی رقم کی پیشگی ادائیگی کریں۔ گیس پروم کے سربراہ کہتے یں:’’گیس کی ترسیل کا نیا معاہدہ ایک خاص طریقہ کار کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔ رقم کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی یا کسی ملک کی طرف بقا یاجات نکلتے ہوں، تو فوری طور پر صو فیصد یا مکمل رقم کی ادائیگی واجب ہوجائے گی۔ اس صورت میں یوکرائن کو ہر ماہ رقم کی پیشگی ادائیگی کرنا ہوگی۔‘‘

Gasstreit Russland Ukraine Symbolbild

یورپ میں ایک جانب تو ریکارڈ سردی پڑی اور دوسری جانب روس نے گیس کی سپلائی روکے رکھی



گیس تنازعے کے حل کے لئے روسی وزیر اعظم پوٹن اور یوکرائن کی وزیر اعظم تیموچنکو کے مابین ہونے والے ہنگامی مذاکرات میں اس امر پر اتفاق ہوا تھا کہ اگر یوکرائن یورپی ممالک کو گیس کی ترسیل کے لئے اپنے ذرائع استعمال کرنے کے لئے سن دو ہزار آٹھ میں جو معاوضہ لیتا رہا ہے اس میں اضافہ نہیں کرے گا تو سن دو ہزار نو میں یوکرائن کو غالبا بیس فیصد کی رعایت ملے گی۔ اس کے باوجود تازہ ترین اندازوں کے مطابق ایک ہزار کیوبک میٹر گیس کی سپلائی پر تقریبا تین سو ساٹھ ڈالر کا خرچ آئے گا۔

روسی وزیر اعظم پوٹن گیس کی قیمت سے متعلق کی ایف اور ماسکو کے مابین اتفاق کے باوجود محتاط نظر آ رہے ہیں۔ انھوں نے ٹیلی فون کے ذریعے یورپی یونین کے کمشنر ہوزے مانویل باروسو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گیس کے نئے معاہدوں کو قانونی طور پر مضبوط بنائیں۔