1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس، یوکرائن گیس تنازعہ حل

روس اور یوکرائن کے درمیان یورپ کو فراہم کی جانے والی گیس سے متعلق تنازعہ حل ہوگیا ہے۔

default

شدید سردی اور برف باری کے شکار کئی یورپی ممالک گیس کی بندش کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں

ہفتہ کے روز ماسکو میں روسی وزیر اعظم ولایمیر پوتین اور یوکرائن کی وزیر اعظم یولیا تیموشینکو کے درمیان ہونے والے دو طرفہ مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا گیا کہ دونوں ممالک پیر کے روز ایک نئے معاہدے پر دستخط کردیں گے جس کے بعد یورپی ممالک کو فوری طور پر گیس کی فراہمی شروع کردی جائے گی۔یورپی پونین کے ستائیس ممالک اپنی گیس کی ضروریات کا ایک چوتھائی روس سے حاصل کرتے ہیں جو براستہ یوکرائن یورپ تک آتی ہے۔ دوسری جانب جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ روس یوکرائن گیس تنازعے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک سلوواکیا کو گیس فراہم کرے گا۔

اجلاس سے قبل روسی وزیراعظم پوتن کے ایک ترجمان Dmitri Peskow نے کہا ہے کہ اس ہنگامی اجلاس کا مقصد گیس تنازعے کو حل کرنا ہے تاکہ مغربی یورپی ممالک کے لئے یوکرائن کے ذریعے گیس کی سپلائی جلد از جلد دوبارہ شروع ہو سکے۔ روسی حکومت کے مطابق ان مذاکرات میں روس اور یوکرائن کے توانائی کے امور کے وزراء سمیت روس کی سرکاری توانائی کمپنی Gazprom اور یوکرائن کی چند اہم توانائی کی فرمز کے سربراہان حصہ لیا۔

Gasstreit Russland Ukraine Gazprom

روس اور یوکرائن کی سرحد پر ایک گیس سٹیشن کا منظر

کئی ہفتوں سے جاری گیس تنازعے کے حل کے لئے موثر بات چیت کی غرض سے ماسکو میں یہ اجلاس روسی وزیر اعظم ولادیمیر پوتین کے ایماء پر منعقد ہو ا۔یورپی یونین کے رکن ممالک توقع کر رہے ہیں کہ گیس تنازعے کا حل اور یورپی ممالک کو گیس کی سپلائی جلد دوبارہ شروع ہوجائے گی۔ یورپی یونین آج کے اجلاس میں فریقین کے مابین مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں روس اور یوکرائن کے مابین تعلقات پر غورکرے گی۔

Gasstreit Russland Ukraine

روس الزام عائد کرتا رہا ہے کہ یوکرائن روسی گیس کی چوری میں مصروف ہے

جمعہ کے روز جرمن دارالحکومت برلن میں روسی وزیر اعظم ولادیمیر پوتین نے مغربی یورپی ممالک کی توانائی کی کمپنیوں کا ایک کونسرشیم یا اتحاد قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ روس چاہتا ہے کہ مغربی یورپی توانائی کمپنیوں کا یہ اتحاد یوکرائن کے ذریعے مغربی یورپی ممالک تک آنے والی روسی گیس کے اخراجات ادا کرے۔ روسی وزیر اعظم نے ان اخراجات کا ایک اندازہ لگاتے ہوئے کہا کہ تین ماہ کی گیس کی سپلائی پر تقریباٍ پانچ سو پچاس ملین یورو کا خرچ آئے گا۔

Dossierbild Gasstreit 1

یورپ تک پہنچنے والی گیس کا ایک بڑا حصہ یوکرائن کے راستے آتا ہے

جرمن چانسلر کے ساتھ ولادیمیر پوتن کی ملاقات میں یورپ کی توانائی کی متعدد بڑی فرمز کے سربراہان نے بھی حصہ لیا۔ روسی وزیر اعظم نے جرمن چانسلر کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ موجودہ گیس تنازعے کا اصل ذمہ دار یوکرائن ہے۔ تاہم جرمن چا نسلر میرکل نے موسکو یا کی ایف میں سے کسی ایک کی طرف داری سے اجتناب برتا۔

Medwedew setzt Abkommen über Gas-Kontrolleure außer Kraft

ایک روسی گیس پمپنگ سٹیشن

اس تنازعہ کے سبب کئی ہفتوں سے روسی گیس کی یورپی ممالک تک سپلائی بند رہی ہے۔ شدید سردی اوربرف باری کے موسم میں گیس کی سپلائی بند ہونے سے کئی یورپی ممالک کے باشندوں کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثررہی۔ کئی ملکوں میں سردی کے سبب بیماریوں کے پھیلنے کے خدشات بھی پیدا ہوگئے۔