1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس کے ساتھ روابط، ’ٹرمپ کے مشیر کے خلاف تفتیش‘

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے امریکی صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر مائیکل فلِن کے روسی حکام کے ساتھ مبینہ رابطوں کی چھان بین کی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ سلسلہ جاری ہے یا ختم ہو چکا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی فوج کے ریٹائرڈ تھری اسٹار جنرل مائیل فلِن کے روسی حکام سے رابطوں کو ان تحقیقات میں شامل کیا گیا ہے، جن کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں اور روسی حکومت کے ارکان کے مابین ہونے  والی کمیونیکیشن کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ مائیکل فلِن نے اتوار کے دن ہی اپنے نئے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

ہیکنگ کا امریکی الزام اپنے عوام کو ’گم راہ کرنے کی کوشش‘ ہے

ٹرمپ کا روس کے خلاف پابندیاں ہٹانے کا عندیہ

ٹرمپ کے لیے ایک اور مشکل

سی آئی اے کی طرف سے اس چھان بین کا مقصد یہ پتہ چلانا ہے کہ آیا ٹرمپ کے قریبی ساتھی روسی حکام سے رابطوں میں رہے۔ یہ واضح نہیں کہ یہ انکوائری کب شروع ہوئی اور کیا اس کے نتیجے میں کوئی شواہد بھی ملے اور یہ کہ آیا یہ عمل اب بھی جاری ہے یا ختم ہو چکا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس تفتیشی عمل میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ مائیکل فلِن کے روسی حکام کے ساتھ روابط کس نوعیت کے رہے اور آیا یہ کسی قانون شکنی کا باعث بھی بنے۔

مائیکل فلِن نے انتیس دسمبر کو واشنگٹن میں تعینات روسی سفیر سیرگئی کِسلیاک سے متعدد مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا۔ یہ وہی دن تھا، جب اوباما انتظامیہ نے امریکی الیکشن میں سائبر حملوں کے تناظر میں روس کے خلاف متعدد پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔

ٹرمپ کے پریس سیکرٹری شین سپائسر نے مائیکل فلِن اور سیرگئی کِسلیاک کے ان رابطوں کے بارے میں کہا تھا کہ ان دونوں نے کرسمس اور سال نو کے پیغامات کا تبادلہ کیا تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ ماسکو حکومت گزشتہ برس کے امریکی انتخابات کے دوران کسی سائبر مداخلت کی سختی سے تردید کرتی ہے۔

امریکا میں صدر کا قومی سلامتی کا مشیر اگرچہ کابینہ کا رکن نہیں ہوتا لیکن عمومی طور پر اس عہدے پر فائز ہونے والا اہلکار صدر کا انتہائی قریبی شخص تصور کیا جاتا ہے۔ مائیکل فلِن نے امریکی فوج میں خدمات سر انجام دیتے ہوئے عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی شمولیت کی تھی۔ ان کے کچھ بیانات کو ’اسلاموفوبیا‘ کے تناظر میں بھی دیکھا گیا تھا تاہم وہ چین اور روس کی طرف قدرے لچک دار رویے کے حامل قرار دیے جاتے ہیں۔

DW.COM