1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں، امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ وہ اختتام ہفتہ پر اپنے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ روس کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

ماسکو اور واشنگٹن میں بعض لوگوں کی طرف سے امید کی جا رہی تھی کہ سابق سرد جنگ کے دور کے ان دو روایتی حریفوں کے تعلقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں بہتر ہوں گے۔ اس کی وجہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے لیے تعریقی کلمات بھی تھے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا تھا کہ صدر بننے کی صورت میں وہ روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائیں گے۔

تاہم دنیا کی یہ دو بڑی طاقتیں مختلف معاملات پر بدستور منقسم ہی ہیں اور رواں برس کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد سے ان دونوں ممالک کے باہمی تعلقات مسلسل  تنزلی کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ مختلف عالمی معاملات پر اختلافات ہیں جن میں روس کی طرف سے یوکرائن میں مداخلت، امریکا کی طرف سے کریملن اور اس کے اتحادیوں کے خلاف پابندیاں اور ماسکو کی طرف سے شامی صدر بشارالاسد کی حمایت جیسے معاملات شامل ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹِلرسن نے منگل یکم اگست کو اعتراف کیا کہ روس کے ساتھ تعلقات تناؤ کا شکار ہیں اور اس میں بہتری کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے یہ ذمہ داری روس پر عائد کی کہ وہ امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے مناسب اقدامات کرے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن مسائل کو چھپانے کی کوشش نہیں کرتے۔ انہوں نے رواں برس مارچ میں کریملن کے دورے کے بعد کہا تھا کہ امریکا اور روس کے تعلقات ’’تاریخ کی کم ترین سطح‘‘ پر ہیں اور ان میں بہتری کے کم ہی امکانات ہیں۔

Russland Moskau Rex Tillerson und Sergei Lawrow (picture-alliance/dpa/TASS/S. Krasilnikov)

ٹِلرسن نے مارچ میں کریملن کے دورے کے بعد کہا تھا کہ امریکا اور روس کے تعلقات ’’تاریخ کی کم ترین سطح‘‘ پر ہیں اور ان میں بہتری کے کم ہی امکانات ہیں

ریکس ٹلرسن نے ان خیالات کا اظہار کانگریس کی جانب سے روس پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کی قرارداد کی منظوری کے بعد کیا ہے۔ کانگریس کی منظور شدہ قرارداد کی توثیق ابھی صدر ٹرمپ نے نہیں کی ہے۔ ٹِلرسن نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کانگریس کی طرف سے روس کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیاں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کی کوششوں میں ایک نئی رکاوٹ ثابت ہوں گی۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ماسکو کے خلاف نئی پابندیوں کے اس مسودے پر دستخط کر دیں گے۔