1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس کے خلاف پابندیاں ختم نہیں کی جا سکتیں، میرکل

جرمنی اور پولینڈ میں مماثلت بھی ہے جبکہ دونوں کے مابین کئی معاملات میں اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے دورہ پولینڈ کے دوران دونوں ہمسایہ ملکوں کے مابین اہم شعبوں میں قریبی تعاون پر اتفاق کیا ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے پولینڈ کے اپنے دورے کے دوران غیر جانبدار اور خود مختار عدلیہ اور آزاد ذرائع ابلاغ کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر انہوں نے پولینڈ کی وزیر اعظم بیاٹا شیڈلو سے بھی ملاقات کی۔ پولینڈ میں ذرائع ابلاغ  اور عدلیہ کی نگرانی اور ان شعبوں میں حکومتی اختیارات بڑھانے سے متعلق  قوانین پر یورپی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ وارسا میں چانسلر میرکل نے مزید کہا کہ یوکرائن کی صورتحال بدستور نا قابل برداشت ہے۔ میرکل کے بقول مشرقی یوکرائن میں جاری تنازعے کی وجہ سے روس پر سے یورپی پابندیاں نہیں اٹھائی جا سکتیں۔ اس موقع پر انہوں نے یورپی یونین کے اندر رہتے ہوئے کسی قسم کی خصوصی گروپ بندی سے بھی خبردار کیا۔

پولستانی وزیر اعظم  نے کہا کہ وارسا دوطرفہ بنیادوں پر برلن کے ساتھ اور زیادہ گہرے تعاون کا خواہش مند ہے۔ چانسلر میرکل کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میزبان وزیر اعظم نے کہا کہ یورپی یونین ایک منصوبہ ہے، اور اس کی کامیابی کے لیے بھی ضروری ہے کہ جرمن پولستانی شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

شیڈلو کے مطابق مہاجرین سے متعلق اور دفاعی شعبے کے حوالے سے یورپی پالیسیوں پر بات چیت کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس موقع پر چانسلر میرکل نے کہا کہ جہاں تک یورپی سیاست کا تعلق ہے، جرمنی اور پولینڈ کے مابین بہت سے شعبوں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے تاہم کئی نکات پر دونوں ملکوں کی سوچ مختلف بھی ہے۔ اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دفاعی اخراجات میں اضافے کی حمایت بھی کی۔ اس وقت جرمنی اپنی سالانہ مجموعی قومی پیداوار کا 1.2فیصد مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کو دیتا ہے جبکہ نیٹو کے ضوابط کے مطابق یہ شرح کم از کم دو فیصد ہونا چاہیے۔

پولینڈ میں 2015ء میں بیاٹا شیڈلو کے وزیراعظم بننے کے بعد یہ میرکل کا پہلا دورہ تھا۔ ان دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات قدرے مثبت ہیں اور ان کے مابین تجارت بھی تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔