1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’روس کے باعث خدشات‘: امریکی نائب صدر ایسٹونیا پہنچ گئے

بالٹک کے خطے میں بڑھتی روسی عسکری سرگرمیوں کے تناظر میں نیٹو اتحادی ممالک کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے لیے امریکی نائب صدر مائیک پینس ایسٹونیا پہنچ گئے ہیں۔ اپنے اس دورے کے دوران وہ جارجیا اور مونٹی نیگرو بھی جائیں گے۔

نیٹو کی مشرقی یورپی رکن ریاستیں روس کی جانب سے عسکری سرگرمیوں میں اضافے پر خائف ہیں اور امریکی نائب صدر مائیک پینس کے اس دورے کا مقصد ان ممالک کو امریکی تعاون کا یقین دلانا ہے۔ اتوار تیس جولائی کے روز شروع ہونے والے اس دورے کے دوران مائیک پینس ایسٹونیا کے وزیر اعظم جوری راٹاس سے ملاقات کریں گے، جب کہ اس ملاقات میں ایک اعشاریہ تین ملین کی آبادی والے اس ملک میں امریکی طیارہ شکن دفاعی نظام کی تنصیب سے متعلق بات چیت بھی ہو گی۔

ایسٹونیا کی سن 1991ء میں سوویت یونین سے علیحدگی اور سن 2004ء میں نیٹو اتحاد میں شمولیت کی پوری تاریخ میں ماسکو اور ٹالین حکومتوں کے درمیان کشیدگی موجود رہی ہے۔ حال ہی میں بالٹک کی ریاستوں لیٹویا، لیتھوانیا اور ایسٹونیا کی جانب سے خطے میں روسی فوجی مشقوں کے تناظر میں سلامتی کے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔ سن 2014ء میں یوکرائن کے علاقے کریمیا پر روسی قبضے کے بعد سے مشرقی یورپی نیٹو ممالک کئی طرح کے خدشات کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔

US-Vizepräsident Pence in Südkorea (Picture-Alliance/dpa/L. Jin-Man/AP)

مائیک پینس اپنے اتحادی ممالک کو امریکی تعاون کا یقین دلائیں گے

پیر کے روز مائیک پینس ٹالین میں ایسٹونیا کی صدر کیرسٹی کالجُلیڈ اور ان کی لیٹویئن ہم منصف دالیا گریباسکیت سے ملاقاتیں کریں گے۔

اپنے اس دورے کے دوران پینس بالٹک کے خطے میں تعینات چار نیٹو بٹالینز سے بھی ملیں گے، جو مغربی دفاعی اتحاد کے مشرقی یورپ میں ایک پروگرام کے تحت وہاں تعینات ہیں۔

مبصرین کے مطابق مائیک پینس اپنے اس دورے کے دوران بالٹک ریاستوں کی جانب سے اپنی مجموعی قومی پیداوار کا دو فیصد دفاع کے شعبے میں خرچ کرنے اور افغانستان مشن میں ان کی شمولیت اور تعاون پر ان کا شکریہ بھی ادا کریں گے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب روس ستمبر میں بالٹک کے خطے میں نئی فوجی مشقیں شروع کرنے والا ہے، مائیک پینس کا یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ماسکو حکومت کو یہ پیغام دینے کی کوشش بھی ہے کہ نیٹو ممالک سلامتی کے موضوع پر ایک ساتھ کھڑے ہیں۔