1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

روس کے اشرافیہ کے کتوں کی سواری، پرائیویٹ جیٹ طیارے

روس میں اشرافیہ طبقہ یہ بتانے میں عار محسوس نہیں کرتا کہ ان کے کتے بھی ان کے ساتھ نجی طیارے میں سفر کیا کرتے ہیں۔ یہ کتے ایک خاص ’کورگی‘ نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب ریو ڈی جنیرو میں اولمپکس مقابلے ہو رہے ہیں، روس کے امیر کبیر افراد نے ایک اور ہی طرز کے کھیل کا انتخاب کیا ہے۔ ہم یہاں ’کرفٹس ‘ نامی بین الاقوامی ڈاگ شو کی بات کر رہے ہیں ۔ اس شو کو یورپ بھر میں پسند کیا جاتا ہے اور روس کے امیر افراد اس میں شرکت کے لیے اپنے ذاتی جہاز میں سفر کرتے ہیں۔ جن کتوں کی بات ہو رہی ہے وہ ایک خاص ’کورگی‘ نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس نسل کے کتے ملکہ برطانیہ کے پسندیدہ ہیں جب کہ روس کے نائب وزیر اعظم کی اہلیہ اولگا شووالوفا نے انہیں پالنا اپنا مشغلہ بنا رکھا ہے۔ روس کے نائب وزیر اعظم اگور شووالوف کا شاہانہ طرز زندگی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ خاص طور سے جب سے انہوں نے آسٹریا میں ایک محل کرائے پر لیا ہے اور لندن کے ایک خاص علاقے سینٹ جیمز پارک کے قریب تیرہ ملین یورو کی لاگت کا ان کا ایک اپارٹمنٹ بھی ہے۔

Großbritannien Crufts Hundeschau

ان کتوں کا خیال رکھنے والے ایک منیجر کے مطابق عیش و عشرت کی زندگی ایک ایسی لت ہے جس میں مبتلا کوئی بھی جاندار، خواہ اس کا تعلق کسی بھی جنس سے ہو، ایک عام جہاز کی بزنس کلاس میں سفر نہیں کر سکتا

ان کتوں کا خیال رکھنے والے ایک منیجر کے مطابق عیش و عشرت کی زندگی ایک ایسی لت ہے جس میں مبتلا کوئی بھی جاندار، خواہ اس کا تعلق کسی بھی جنس سے ہو، ایک عام جہاز کی بزنس کلاس میں سفر نہیں کر سکتا کیونکہ یہ اتنا آرام دہ نہیں ہے۔ اسی لیے وہ اپنے ذاتی خاندانی جہاز میں سفر کرتے ہیں۔

یہ انکشاف روس میں حزب اختلاف کے سرگرم کارکن الیکسی نے ویلنی نے کیا جن کے عملے نے اولگا شووالوفا سے پوچھا کہ آیا ان کا طیارہ روسی قوانین کے مطابق ان کے خاندانی اثاثوں کی فہرست میں موجود ہے تو ان کا جواب تھا سب کچھ پلان کے مطابق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اپنےکتوں کی نقل و حمل کے لیے بھی طیارہ استعمال کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ وہ ٹرانسپورٹ کے مختلف ذرائع استعمال کرتی ہیں، انہوں نے کہا،’’ کبھی کبھار ہم اپنے کتوں کو بین الاقوامی مقابلوں میں لے جانے کے لیے طیارہ بھی استعمال کرتے ہیں اور اچھا پہلو یہ ہے کہ ہم ان مقابلوں میں روس کی نمائندگی کرتے ہیں۔‘‘ شووالوفا کا کتا گزشتہ برس ’مائنر پپی ڈاگ ‘‘ کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر آیا تھا۔

DW.COM