روس کا ویٹو، شام میں قیام امن کی ایک اور کوشش ناکام | حالات حاضرہ | DW | 09.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس کا ویٹو، شام میں قیام امن کی ایک اور کوشش ناکام

شامی شہر حلب پر بمباری روکنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کردہ مجوزہ قرارداد کو روس نے ویٹو کر دیا ہے۔ فرانس نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں روسی فضائیہ کی کارروائیوں کا دہشت گردی کے خاتمے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہفتے کی شب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فرانس، امریکا اور برطانیہ کی حمایت یافتہ اس مجوزہ قرار داد پر ماسکو حکومت نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’پراپیگنڈا‘ پر مبنی ہے۔ اس اجلاس میں شام میں قیام امن کی خاطر روس نے بھی ایک قرار داد پیش کی، جسے مغربی ممالک نے مسترد کر دیا۔

حلب کی جنگ، سلامتی کونسل میں مشرق اور مغرب کے درمیان کشیدگی
حلب میں ’خون کی ہولی‘ روکی جائے، برطانیہ اور فرانس کا مطالبہ

حلب میں فائر بندی کے لیے روس اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے، میرکل

ناقدین کا کہنا ہے کہ شام میں قیام امن کی خاطر پیش کی جانے والی ان دونوں قراردادوں کے مسترد ہونے سے شامی صدر بشار الاسد کے حامی ملک روس اور شامی باغیوں کی خیر خواہ مغربی طاقتوں میں پائے جانے والے اختلافات مزید شدید ہو گئے ہیں۔

شام میں گزشتہ پانچ برسوں سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے سلامتی کونسل کی یہ پانچویں قرار داد تھی، جسے روس نے ویٹو کیا ہے۔ شام تنازعے کی وجہ سے اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق تین لاکھ کے قریب انسان ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس شورش نے مہاجرین کے بحران کو بھی شدید بنا دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عالمی رہنماؤں نے شام میں قیام امن کی کوششوں کے لیے یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد کیا، جب مشرقی حلب میں شامی فورسز باغیوں کے ٹھکانوں پر شدید حملے کر رہی ہیں۔ اس عسکری کارروائی میں شامی فورسز کو روسی فضائیہ کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہے۔ امدادی اداروں کے مطابق مشرقی حلب میں ایک لاکھ پچیس ہزار انسان محصور ہیں، جنہیں روزانہ کی بنیادوں پر شدید شیلنگ اور بمباری کا سامنا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ کا اصرار ہے کہ حلب شہر کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے روس کی حمایت یافتہ شامی فورسز کی بمباری کو فوری طور پر روکنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ شام میں روسی جنگی طیاروں کی کارروائی کا وہاں انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، ’’اگر اس مخصوص وقت میں عالمی برداری نے کوئی قدم نہ اٹھایا تو وہ بھی (حلب کی تباہی میں برابر کی) ذمہ دار ہو گی۔‘‘

 

USA UN-Sicherheitsrat tagt in New York zu Syrien (Getty Images/AFP/D. Reuter)

مغربی ممالک کی حمایت یافتہ مجوزہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ شام میں فوری طور پر جنگ بندی کی جائے

مغربی ممالک کی حمایت یافتہ مجوزہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ شام میں فوری طور پر جنگ بندی کی جائے، جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ حلب میں شامی اور روسی بمباری روکی جائے اور وہاں پھنسے ہوئے انسانوں کو فوری امداد پہنچائی جائے۔ پندرہ رکنی سلامتی کونسل کے آٹھ رکن ممالک نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ روس اور وینزویلا نے اس کی مخالفت کی۔ چین اور انگولا نے اپنی رائے محفوظ رکھی۔

آٹھ اکتوبر بروز ہفتہ منعقد ہوئے سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں روس نے بھی ایک قرار داد پیش کی، تاہم اس میں حلب کا کوئی تذکرہ نہیں تھا۔ اس قرار داد کے حق میں صرف تین رکن ممالک نے ووٹ دیا، جن میں روس، چین اور وینزویلا شامل تھے۔

DW.COM