1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

روس کاعالمی تجارتی معاہدے میں شامل ہونے کا پختہ ارادہ

روس نے اس امر کی تصدیق کی کہ وہ عالمی ادارہ تجارت WTO میں شمولیت کا خواہش مند ہے

default

روسی صدر دمتری میدویدیف اور وزیراعظم ولادی میر پوٹن

روس اور یورپی یونین کی سویڈش دارالحکومت سٹاک ہولم میں بدھ کو ہونے والی سربراہی کانفرنس میں زیادہ تر توانائی سے متعلقہ مو‌ضوعات پر بات چیت کی گئی۔ اس سالانہ اجلاس میں روس نے اس امر کی تصدیق کی کہ وہ عالمی ادارہ تجارت میں شمولیت کا خواہش مند ہے۔

سٹاک ہولم میں یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے سویڈش وزیر اعظم فریڈرک رائن فیلڈ کے مہمان روسی صدر دیمتری میدویدیف تھے۔ اس ملاقات میں صدر میدویدیف نے یورپی یونین کی کونسل کے موجودہ سربراہ کے ساتھ بات چیت میں تصدیق کی کہ روس، جو ابھی تک WTO میں شامل نہیں ہوا، اس عالمی تنظیم کا رکن بننے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے۔

IWF und Weltbanktreffen in Singapur Demonstration in Hongkong

عالمی تجارتے ادارے WTO مخالف مظاہرے کی فائل فوٹو

تاہم روسی صدر نے سویڈش وزیر اعظم سے یہ بھی کہا کہ روس کی قاذخستان اور سفید روس کے ساتھ کسٹمز یونین کے پس منظر میں یہ تینوں ملک مشترکہ طور پر عالمی ادارہ تجارت میں شامل نہیں ہوں گے، بلکہ وہ تین مختلف ریاستوں کے طور پر اس تنظیم کے رکن بننا چاہیں گے۔

سٹاک ہولم میں ان روسی یورپی مذاکرات کی خاص بات یہ تھی کہ ماسکو نے قریب سولہ سال بعد بالآخر اس بارے میں کھل کر اپنے ارادوں کا اظہار کیا کہ وہ WTO میں شامل ہوگا۔ قبل ازیں اس حوالے سے کئی مذاکراتی مراحل مسلسل بے نتیجہ رہے تھے۔ اسی بارے میں سال رواں کے آغاز پر روسی وزیر اعظم ولادیمیر پوٹن نے یہ کہہ کر بھی کافی ابہام پیدا کر دیا تھا کہ ماسکو صرف اُسی صورت میں عالمی تجارتی ادارے میں شامل ہو گا، جب اس کی قاذخستان اور سفید روس کے ساتھ کسٹمز یونین کو ایک بلاک کے طور پر اس تنظیم کا رکن بنایا جائے گا۔ WTO کے لئے یہ تسلیم کرنا اس لئے انتہائی مشکل تھا کہ آج تک اس ادارے کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔

Gasstreit Russland Ukraine

یورپ کو برآامد کی جانے والی روسی گیس براستہ یوکرائن فراہم کی جاتی ہے۔

روس نے یورپی یونین کے ساتھ اپنی سالانہ سربراہی کانفرنس میں ادارہ تجارت میں رکنیت کے حوالے سے واضح مئوقف اس لئے اختیار کیا ماسکو اب اپنی تجارتی مصنوعات کی بیرونی منڈیوں میں زیادہ سے زیادہ برآمد کے ذریعے اپنی داخلی اقتصادی صورت حال میں بہتری کی کوششوں پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔

یورپی یونین کے رکن ملکوں میں استعمال ہونے والی قدرتی گیس کا ایک چوتھائی حصہ روسی برآمدات پر مشتمل ہوتا ہے۔ یورپ کو روسی گیس کی سپلائی میں ماسکو کے یوکرائن کے ساتھ تنازعے کی وجہ سے گزشتہ برس کافی کمی بھی دیکھنے میں آئی تھی۔ اس بارے میں سویڈش وزیر اعظم نے روسی صدر کے ساتھ اپنی بات چیت میں اس بات پر زور دیا کہ ماسکو یورپی یونین کے لئے توانائی کی روسی برآمدات کے تسلسل کو یقینی بنائے۔

رپورٹ : عصمت جبیں

ادارت : مقبول ملک