1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس پر نئی پابندیاں، امریکی سینیٹ میں بل منظور

امریکی سینیٹ نے روس کے خلاف تازہ پابندیوں کی قرارداد کو تقریباً متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس پيش رفت کے نتيجے ميں امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روس کے ساتھ باہمی تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کو گہری ٹھیس پہنچے گی۔

امریکی سینیٹ میں روس پر نئی پابندیوں کی قرارداد کے حق میں ايک سو اراکین میں سے اٹھانوے نے ووٹ ڈال کر اس کی منظوری دی۔ اس قانونی قرارداد کو امریکی ایوانِ نمائندگان نے بھی بھاری اکثریت سے منظور کیا تھا۔ ایوانِ نمائندگان کے 419 اراکین نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ صرف تین ارکان مخالفت میں تھے۔

ٹرمپ دور میں امریکا کے ساتھ روسی تعاون بہتر ہو سکتا ہے، پوٹن

روس کے ساتھ تعمیری انداز میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، ٹرمپ

امریکا روس کا دشمن نہیں، پوٹن

تجزیہ کاروں کے مطابق اس قانون کی توثیق میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اور اِس منظوری کے بعد روس کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی اُن کی کوششوں کا عمل رک بھی سکتا ہے۔ اس قانونی بل کی حمایت میں ری پبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین مشترکہ طور پر سرگرم تھے۔

یہ امر اہم ہے کہ سن 2016 میں امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کے حوالے سے کانگریس کے ساتھ ساتھ ایک خصوصی وکیل بھی تفتیشی عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن اس مبينہ مداخلتی عمل کی تردید کرتے آئے ہیں۔ بل میں ایسی ایک شق بھی شامل ہے کہ کانگریس روس پر عائد پابندیوں کو نرم کرنے کے عمل کو روکنے کی مجاز ہو گی۔

Deutschland Trump trifft Putin (picture alliance/dpa/AP/E. Vucci)

امریکی اور روسی صدور جی ٹوئنٹی سربراہ اجلاس میں

سینیٹ سے پابندیوں کی قانونی قرارداد کی منظوری کے بعد اب اِسے توثیق کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیجا جائے گا۔ بل کو ٹرمپ ویٹو بھی کر سکتے ہیں۔ ماضی میں امریکی صدور کانگریس کے منظور شدہ قانونی بلز کو ویٹو کرتے رہے ہیں۔

سینیٹ میں جس قانونی قرارداد کی منظوری دی گئی ہے، اس میں ایران اور شمالی کوریا کے خلاف بھی نئی پابندیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس بل کے حوالے سے سینیٹر جان مککین کا کہنا ہے کہ سینیٹ اور ایوانِ نامائندگان کی منظوری سے روس اور کسی بھی دوسرے جارحانہ ملک کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ امریکی جمہوریت پر کسی قسم کے حملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

DW.COM