روس پر سے توانائی کا انحصار کم کرنے کے حوالے سے يورپی منصوبہ زير غور | حالات حاضرہ | DW | 09.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس پر سے توانائی کا انحصار کم کرنے کے حوالے سے يورپی منصوبہ زير غور

يورپی بلاک اپنے اختيارات ميں اضافے کے حوالے سے ايک منصوبہ پيش کرنے والا ہے، جس کے تحت رکن رياستوں کے يونين سے باہر کے ملکوں کے ساتھ توانائی کے شعبے سے متعلق معاہدوں کا جائزہ ليا جانا ممکن ہو سکے گا۔

سنگ ميل کی حيثيت رکھنے والی’ توانائی يونين‘ کے قيام کے تقريباً ايک برس بعد اٹھائيس رکنی يورپی يونين ميں اختيارات ميں اضافے سے متعلق ايک تازہ منصوبہ زير غور ہے۔ يوکرائنی تنازعے کے سبب یورپی یونین کے اراکین کے روس کے ساتھ تعلقات ميں بد تری کے تناظر ميں زير غور اس منصوبے کی تفصيلات بدھ دس فروری کو عام کی جانا ہيں۔ اس بارے ميں يورپی بلاک کے کمشنر برائے توانائی ميگوئل آرياس کانيٹے نے پير کی شب اعلان کيا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کا مقصد گيس کی ترسيل سے متعلق کسی ممکنہ بحرانی صورتحال سے بچنے کے ليے حکمت عملی تيار کرنا ہے۔

يورپی يونين پہلے ہی سے اس کی تحقيقات کر رہی ہے کہ آيا روس کی سرکاری گيس کمپنی گيز پروم نے غير منصفانہ قيمتيں مقرر کيں، جو ثابت ہو جانے کی صورت ميں بلاک کی منصافانہ تجارت سے متعلق قوانين کی خلاف ورزی ہو گی۔ يوکرائن کے حوالے سے اختلافات کے علاوہ يہ بھی ايک ايسی پيش رفت ہے، جس کی وجہ سے برسلز اور ماسکو کے تعلقات ميں خرابی پيدا ہوئی ہے۔

يورپی بلاک کے کمشنر برائے توانائی ميگوئل آرياس کانيٹے

يورپی بلاک کے کمشنر برائے توانائی ميگوئل آرياس کانيٹے

دس فروری کو جس منصوبے کی تفصيلات جاری کی جانا ہيں، اس کے مطابق يورپی کميشن يہ اختيار حاصل کرنا چاہتی ہے کہ رکن رياستوں کے غير رکن رياستوں کے ساتھ توانائی سے متعلق معاہدوں کا ان کو حتمی شکل ديے جانے سے قبل جائزہ ليا جا سکے۔ اس سے اس بات کا تعين کيا جائے گا کہ آيا يہ معاہدے يورپی يونين کے قوانين کے مطابق ہيں یا نہیں۔ اس وقت لاگو ہونے والے قوانين کے تحت بلاک معاہدوں پر دستخط ہو جانے کے بعد ان کا معائنہ کرنے کے اختيار کا حامل ہے۔

برسلز حکام اس کے بھی خواہاں ہيں کہ اگر کچھ کمپنیاں يورپی ملکوں کی منڈيوں کے چاليس يا اس سے زيادہ فيصد حصے کی حامل ہوں، تو رکن رياستوں اور غير رکن رياستوں کے مابين طے پانے والے ايسے کمرشل کانٹريکٹس تک رسائی حاصل ہو سکے۔ کانيٹے کے بقول اس اقدام سے شفافيت بڑھے گی اور يورپی بلاک توانائی کے ذرائع کی سپلائی سے متعلق سلامتی کے امور کا جائزہ لے سکے گی۔

اس مجوزہ منصوبے کو روسی کمپنی ’گيز پروم‘ کی جانب سے يورپی ملکوں کی منڈيوں ميں بہت زيادہ حصہ حاصل کرنے سے روکنے کے طور پر ديکھا جا رہا ہے۔ ايک يورپی ذرائع کے مطابق مستقبل ميں ناروے اور الجزائر جيسے ديگر بڑے پروڈيوسرز کو بھی ديکھا جا سکتا ہے۔

يورپی يونين کے انرجی کمشنر ميگوئل آرياس کانيٹے نے يہ بھی بتايا کہ برسلز بلاک کے اندر ہی نو نئے ’توانائی کے خطوں‘ کا قيام چاہتا ہے تاکہ ہنگامی صورتحالوں ميں رکن رياستيں ہی ايک دوسرے کی مدد کر سکيں۔

يہ امر اہم ہے کہ يورپی رياستيں توانائی کے حوالے سے اپنے معاہدوں کو حتمی شکل دينے کے اختيارات رکھنا چاہتی ہيں اور اسی وجہ سے امکانات ہيں کہ توانائی کے حوالے سے ايک جامع يورپی پاليسی کے قيام کے بارے ميں اس منصوبے پر اعتراضات بھی سامنے آئيں۔