1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس نے ٹرمپ کو جتوانے میں مدد کی، واشنگٹن پوسٹ

امریکی خفیہ اداروں کی ایک تفتیش کے مطابق امریکی صدارتی انتخابات کے دوران روس نے ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم کو کامیاب بنانے میں خفیہ طور پر مدد کی تھی۔ تاہم ٹرمپ اور ماسکو دونوں نے ہی ایسے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے سی آی اے نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والے امریکی صدارتی الیکشن میں روسی ہیکرز نے ٹرمپ کو جتوانے کی کوشش کی تھی۔ امریکی اخبار ’واشنٹگن پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسیوں نے ایسے افراد کی شناخت کی ہے جن کے روسی حکومت کے ساتھ روابط ہیں اور انہوں نے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کی ہزاروں ای میلز ہیک کر کے وکی لیکس کو مہیا کیں، جن میں ہلیری کلنٹن کی کئی ای میلز بھی شامل تھیں۔

امریکی صدر باراک اوباما نے خفیہ ایجنسیوں کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ الیکشن کے دوران ہونے والے سائبر حملوں کی مکمل تفتیش کریں اور جنوری تک اس کے نتائج تیار کر لیے جائیں۔ بتایا گیا ہے کہ اوباما اپنی مدت صدارت کے ختم ہونے سے قبل ہی اس انکوائری کی مکمل رپورٹ چاہتے ہیں۔ اوباما کے سبکدوش ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ بیس جنوری کو ان کی جگہ امریکی صدر کا حلف اٹھائیں گے۔

روس امریکی انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، اوباما

امریکی الیکشن: روس نے ’نفیس طریقے سے جھوٹی خبریں‘ پھیلائیں

ٹرمپ ذہین ہیں، ذہانت سے صدارتی کردار نبھائیں گے، صدر پوٹن

خفیہ ایجنسیوں کے مطابق روسی حکومت کے ساتھ روابط میں رہنے والے یہ افراد پہلے بھی ان کی نظروں میں تھے جو اُس روسی آپریشن کا حصہ تھے جس نے کلنٹن کے مقابلے میں ٹرمپ کو جتوانے کی مہم چلا رکھی تھی۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ نے ایک اعلیٰ امریکی عہدے دار کے حوالے سے لکھا ہے، ’’ انٹیلی جنس کمیونٹی کا یہ تجزیہ ہے کہ روس کا مقصد تھا کہ وہ امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ایک امیدوار کے مقابلے میں دوسرے امیدوار کا ساتھ دے تاکہ ٹرمپ کو جتوانے میں مدد کی جا سکے۔‘‘

اس امریکی اخبار کے مطابق یہ اعلیٰ عہدے دار سینیٹ کی اس کمیٹی کا رکن ہے جسے گزشتہ ہفتے ہی خفیہ اہل کاروں نے اس تناظر میں مکمل بریفنگ دی تھی۔ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے خفیہ اہل کاروں کے حوالے سے یہ بھی کہا ہے کہ تجزیات اور مکمل تفتیش سے واضح ہو گیا ہے کہ روسی حکومت گزشتہ مہینے کے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کوشش میں تھی۔

دوسری طرف ریپبلکن سیاست دان ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ماسکو بھی ایسی قیاس آرائیاں مسترد کرتی آئی ہے کہ اس نے امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی۔ واضح رہے کہ اکتوبر میں ہی امریکی حکومت نے روس پر باقاعدہ الزام عائد کیا تھا کہ آٹھ نومبر کے انتخابات سے قبل روسی ہیکرز نے ڈیموکریٹک پارٹی کے منتظمین کے خلاف سائبر حملے کیے تھے۔

ایک اور امریکی عہدے دار کا البتہ کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں نے اپنے اس تازہ تجزیے میں یہ الزام عائد نہیں کیا کہ کریملن نے براہ راست ہیکرز کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ ہیک کی جانے والی ای میلز کو وکی لیکس تک پہنچائیں۔ وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج نے کہا ہے کہ انہیں موصول ہونے والی ای میلز روسی حکومتی ذرائع سے حاصل نہیں کی گئی ہیں۔

DW.COM