1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس نے مزید امن دستے ابخازیہ روانہ کر دیے، جورجیا اور نیٹو کا شدید ردِ عمل

روس نے جورجیا سے علیحدہ ہونے والے خطّے ابخا زیہ میںمزید امن دستے روانہ کر دیے ہیں۔ جورجیا نے روس کے اس اقدام کو کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔

default

چند روز قبل روس کے اس اعلان کے بعد کہ وہ جورجیا سے علیحدہ ہونے والے شورش زدہ علاقوں میں مزید امن دستے روانہ کر رہا ہے تو جورجیا اور نیٹو نے اس اقدام پر سخت تنقید کی تھی۔ جورجیا کے مطابق امن دستوں میں اضافے کی آڑ میں روس جورجیا پر دباﺅ ڈالنا چاہتا ہے۔ نیٹو اور یورپی یونین نے بھی روس کو خبر دار کیا تھا کہ اس طرح کا کوئی بھی اقدام خطّے میں کشیدگی کا باعث بنے گا۔

جورجیا نے طبلیسی میں روسی سفیر کو طلب کر کے سرکاری طور پر احتجاج بھی کیا۔ مگر جورجیا اور بین الاقوامی برادری کے اس ردِ عمل کے باوجود روس نے مزید امن دستے ابخازیہ روانہ کر دیے ہیں ۔ روس کا کہنا ہے کہ یہ امن دستے ابھی بھی انیس سو چورانوے میں اقوامِ متحدہ کے زریعے روس اور جورجیا کے درمیان کروائے گئے جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق تین ہزار سے زیادہ نہیں ہیں۔گو کہ ماسکو نے روانہ کیے گئے مزید امن دستوں کی تعداد نہیں بتائی ہے مگر زرائع کے مطابق یہ تعداد بارہ سو کے لگ بھگ ہے۔

جورجئین افراد کی نقل مکانی

انیس سو نوّے کی دہائی کے اوائل میں ابخازیہ کی ابخاز اقلیت نے جنگ کا آغاز کرکے علاقے سے تقریباً ڈھائی لاکھ جورجیائی افراد کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا تھا۔ اس وقت ابخازیہ میں قریباً دو لاکھ افراد آباد ہیں۔ ابخازیہ کو روس کی زبر دست حمایت حاصل ہے ، اس حد تک کے روس نے اس کے اسّی فیصد شہریوں کو روسی پاسپورٹ دیے ہوئے ہیں۔ اس کے با وجود ابخازیہ کو روس سمیت کسی بھی ملک نے آزاد اور خود مختار ریاست تسلیم نہیں کیا ہے۔جورجیا روس پر الزام عائد کرتا ہے کہ روس ابخازیہ اور جنوبی اوسیٹیا کو روس میں شامل کرنا چاہتا ہے۔

Russland Militärmanöver

روسی امن دستوں کا زبر دست خیر مقدم

روسی زرائع ابلاغ کے مطابق ابخازیہ کے شہریوں نے مزید روسی امن دستوں کا زبر دست خیر مقدم کیا ہے۔ ابخازیہ کے بعض شہریوں کی رائے میں جورجئین افواج کھلے عام ابخازیہ میں گشت کر تی رہتی ہیں اور روس جیسے طاقت ور ملک کی جانب سے بھیجے گئے امن دستے ان کا بہتر تحفظ کر سکیں گے۔

دوسری جانب امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک بیان کے مطابق امریکہ کو روس کے اس اقدام پر تشویش تو ہے مگر اس سلسلے میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے روسی صدر ولادی مر پوتین سے کوئی رابطہ یا احتجاج نہیں کیا ہے۔