1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

NRS-Import

روس نے جنوبی اوسیتیا اور ابخازہ کو تسلیم کر لیا

شدید ترعالمی دباؤ کے باوجود روس نے جارجیا سے علیحدہ ہوئے علاقوں جنوبی اوسیتیا اور ابخازیہ کو آزاد ریاست کے طورپر تسلیم کر لیا ہے۔

default

روس کے صدر دمتیرمیدوی اےدیف

یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں، لیکن انسانی زندگیوں کو بچانے کے لئے ایسا کرنا اتنہائی ضروری تھا۔ ان الفاظ کے ساتھ روسی صدر دمتری مید وی ایدف نے جنوبی اوسیتیا اور ابخازیہ کو آزاد ریستوں کے طورپرتسلیم کرتے ہوئے صدارتی فرمان پر دستخط کردئیے۔ اس موقع پرانہوں نے کہا کہ روس کی طرح دیگرممالک کو بھی ان دونوں ریاستوں کو آزاد ریستوں کے طور پرتسلیم کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ جنوبی اوسیتیا اورابخازیہ کےعوام کی خواہشات کو مدنظررکھتے ہوئے کیا گیا اوریہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے۔ روسی پارلیمان پہلے ہی جارجیا کےعلیحدگی پسند ان علاقوں کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ایک قرارداد منظورکرچکی ہے۔

Russische Checkpoints erschweren Hilfseinsätze

ماسکو حکومت کو اپنے اس اعلان کے بعد عالمی برادری کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جارجیا نے اس فیصلےپر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا۔ فرانس نے جنوبی اوسیتیا اورابخازہ کو آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کرنے کہ روسی اقدام کو افسوسناک قراردیا ہے۔ فرانس کی وزرات خارجہ کے ترجمان Eric Chevallier نے کہا کہ فرانس جارجیا کی علاقائی سالمیت کے حق میں ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ روس کے اعلان پر انہیں بہت مایوسی ہوئی ہے اورایسا کر کے روس نے سلامتی کونسل کی قرارداردوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کا ان متنازعہ ریاستوں کو تسلیم کرنے کا اقدام قابل مذمت ہے اورسلامتی کونسل کی کئی قراردادوں سے یہ بات صاف ظاہر ہے جنوبی اوسیتیا اور ابخازیہ جارجیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم کی گئی سرحدی حدود میں ہیں۔


جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا کہ روس کا فیصلہ علاقائی سالمیت کے حوالے سے بنائے گئے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور اس وجہ سے قابل مذمت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین کو متحد ہو کراس کے خلاف اقدامات اٹھانے ہونگے۔ جرمن وزیرخارجہ فرنک والٹر شٹائن مائر نے کہ روس کے اس اقدام سے قفقاز تنازعہ کا حل تلاش کرنا اوربھی مشکل ہو گیا ہے۔

Deutschland Außenminister Frank-Walter Steinmeier zu Georgien und Russland

جرمن وزیر خارجہ فرنع واٹر شٹائن مائر


روسی صدردمتری مید وی اے دیف نے تمام تردباؤ کومسترد کرتے ہوئے کہا کہ 1991 میں بھی جارجیا اس طرح کی ایک کاروائی کر چکا ہے۔ اس وقت بھی ماسکو حکومت نے ابخازیہ اوراوسیتیا کے عوام کو کچلنے کی یہ کوشش ناکام بنائی تھی۔ مید وی اے دیف نے کہا کہ اس مرتبہ بھی تبلیسی حکومت نے ان علاقوں پر قبضہ کرنے کے کوشش میں جنگ شروع کی تھی جس میں سینکڑوں روسی شہری ہلاک ہوئے اوراب مزید ہلاکتوں کو روکنے کے لئے روس کا یہ اقدام اٹھانا ضروری ہو گیا تھا۔