1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس: ’نیٹو بحری اڈوں کی تعیمر سے باز رہے‘

ایک سینیئر روسی سفارتکار نے بُدھ کو ایک بیان میں مغربی دفاعی اتحاد کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بحیرہ اسود میں اپنی بحری افواج کے اڈوں کی تعمیر کے عمل سے باز رہے بصورت دیگر علاقائی سکیورٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

روسی سفارتکار کے مطابق نیٹو کی طرف سے اس قسم کے ممکنہ اقدام کے علاقائی سلامتی پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوں گے اور ماسکو اور مغربی اتحاد کے مابین تعلقات میں پہلے ہی سے پائی جانے والی کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔

روسی سرکاری میڈیا کی رپورٹوں نے ماہ رواں کے شروع ہی میں امریکی نیول ڈسٹرائر USS پورٹراور DDG-78 کے بحیرہ اسود میں داخل ہونے کی اطلاع دی تھی تاہم کہا گیا تھا کہ یہ معمول کی تعیناتی ہے۔ روسی ذرائع ابلاغ کی ان رپورٹوں پر ماسکو حکام کے کان کھڑے ہو گئے تھے اور انہوں نے اس تعیناتی پر، جس میں نیول ڈسٹرائر USS پورٹرکو ایک نئے میزائل نظام کے ساتھ نصب کیا گیا تھا، گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

1936ء میں طے پائے جانے والے معاہدے Montreux Convention کے تحت ایسے ممالک جن کے ساحل بحیرہ اسود کے ساحل سے نہیں ملتے، وہاں ان کے جنگی جہاز 21 روز سے زیادہ عرصے تک نہیں رک سکتے۔ واضح رہے کہ نیٹو کے تین اراکین ترکی، رومانیہ اور بلغاریہ بحیرہ اسود بیسن یا رودبار پر واقع ہیں۔

Russische Militärfahrzeuge an der russisch-ukrainischen Grenze

2014 ء میں کریمیا پر روسی قبضے کے بعد سے نیٹو اور روس کے تعلقات غیر معمولی کشیدہ


روس، جس نے 2014 ء میں کریمیا پر قبضہ کر لیا تھا، کا بحیرہ اسود فلیٹ سیواستوپول میں قائم ہیں۔ دریں اثناء روسی ایجنسیوں نے روس کی وزارت خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار آندری کیلن کے بیان کے حوالے سے تحریر کیا ہے، ’’اگر ایک مستقل فورس کی تشکیل کا فیصلہ کر لیا گیا تو یہ خطے کو غیر مستحکم بنا دے گا کیونکہ یہ نیٹو کا سمندر نہیں ہے۔‘‘

کیلن کا مزید کہنا تھا کہ اگر بحیرہ اسود کا مغربی دفاعی اتحاد سے کوئی لینا دینا نہیں تو اُن کے خیال سے یہ صورتحال روس اور نیٹو کے تعلقات میں بہتری کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔

روسی سفارتکار کا یہ بیان آئندہ ماہ وارسا میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس سے پہلے سامنے آیا ہے۔ یہ مجوزہ اجلاس غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کا انعقاد ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب روس اور نیٹو کے رُکن ممالک کے باہمی تعلقات ماسکو کے یوکرائن میں کردار کی وجہ سے بہت ہی کشیدہ ہیں۔

Belgien Jens Stoltenberg bei der Pressekonferenz der NATO

ژینس اسٹولٹن برگ نے روس پر علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے

مغربی دفاعی اتحاد ہر لمحے اس پر غور کر رہا ہے کہ روس کے اُن اقدامات کی روک تھام کس طرح کی جائے جنہیں نیٹو ’روسی جارحیت میں اضافے کی نشاندہی‘ تصور کرتا ہے۔ اُدھر ماسکو کا کہنا ہے کہ وہ مغربی دفاعی اتحاد کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے بدھ کو روس کی جنگی تیاریوں کی نئی جانچ پڑتال پر تنقید کرتے ہوئے اسے علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ اس پر روس کی وزارت دفاع نے غصے سے بھرپور جواب دیتے ہوئے نیٹو پر الزام عائد کیا کہ وہ ماسکو میں آئندہ ماہ ہونے والے اجلاس سے قبل روس مخالف ہسٹیریا یا اعصابی تناؤ اور ہیجان پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات