1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس میں پارلیمانی انتخابات

روس میں پارلیمانی الیکشن کے لیے ووٹنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس انتخابی عمل کے دوران روس کی وفاقی اسمبلی کے ایوان زیریں کی 450نشستوں کا چناؤ مکمل کیا جائے گا۔

default

آج اتوار کے روز  روس میں پرسکون انداز میں انتخابی عمل جاری رہا۔ سن 2007 کے مقابلے میں ووٹرز کا  ٹرن آؤٹ قدرے کم دیکھا گیا۔ روس میں انتخابی عمل مختلف ٹائم زون کے مطابق شروع ہوا۔ سب سے پہلے ووٹنگ ہفتے کی رات عالمی معیاری وقت کے مطابق گیارہ بجے شروع ہوئی تھی۔ روس کے وسیع و عریض رقبہ نو مختلف عالمی ٹائم زون میں تقسیم ہے۔ پولنگ آج شام عالمی معیاری وقت کے مطابق پانچ بجے کالنن گراڈ (Kaliningrad) کے مقام پر ختم ہو گی اور اس کے بعد ہی ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہو گا۔ ایک سو دس ملین رجسٹرڈ ووٹرز امکاناً اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔ صدر میڈویڈیف اور وزیر اعظم ولادی میر پوٹن کی جماعت یونائیٹڈ رشیہ کی کامیابی یقینی ہے۔

روس کے پارلیمانی انتخابات میں کل سات پارٹیاں شریک ہیں۔ سابقہ الیکشن میں ان پارٹیوں کی تعداد گیارہ تھی۔ متناسب نمائندگی کے تحت پارلیمنٹ میں موجودگی کے لیے کم از کم سات  فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ پہلے یہ حد پانچ فیصد تھی اور اب نئی حد کے متعارف کروانے  کی وجہ سے کئی علاقائی سیاسی  پارٹیاں  مرکزی دھارے سے خارج ہو کر رہ گئی ہیں۔  یہ امر اہم ہے کہ گزشتہ ایک دو سالوں کے دوران حکمران یونائٹڈ رشیہ پارٹی کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے اور کمیونسٹ پارٹی کی جانب مزید لوگ مائل ہوئے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ حکومت کا اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ سخت رویہ بھی خیال کیا گیا ہے۔ حکومت کے سخت ناقد اپوزیشن گروپوں کو موجودہ انتخابات میں شرکت کے لیے رجسٹریشن کے عمل سے باہر رکھا گیا اور اس باعث وہ انتخابی مہم کا حصہ نہیں تھے۔ ایسے حکومتی اقدامات پر آزاد روسی مانیٹرنگ اداروں کے ساتھ بعض غیر ملکی مانیٹرز کی تشویش سامنے آ چکی ہے۔

دو روز قبل روسی صدردیمتری میدویدیف اور وزیر اعظم ولادی میر پوٹین نے اپنی عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کی جماعت کو ووٹ دے کر اسے مضبوط کریں تا کہ روس کے اندر اقتصادی و سماجی پالیسیوں کو تسلسل حاصل ہو سکے۔ انہوں نے ووٹرز کو متنبہ بھی کیا کہ اگر پارلیمنٹ میں مختلف چھوٹے گروپ موجود ہوں گے تو قانون سازی کے ساتھ ساتھ دیگر حکومتی پالیسیوں کو مناسب انداز میں آگے بڑھانے میں رکاوٹ سے بروقت درست فیصلے عوام اور ملک کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب کریں گے۔

رائے عامہ کے اعداد و شمار کے مطابق حکمران یونائٹڈ رشیا پارٹی کو اس مرتبہ 53 فیصد سے زائد ووٹ حاصل ہو سکتے ہیں جو سابقہ الیکشن کے مقابلے میں تقریباً دس فیصد کم ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مقبولیت کی سطح سولہ فیصد سے زائد ہے۔ اگر ووٹنگ کا انداز رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق رہا تو سن 2007 کے مقابلے میں حکمران پارٹی کو پچاس نشستیں کم حاصل ہوں گی۔ سن 2007 کے انتخابات کے بعد معرض وجود میں آنے والے ایوان زیریں میں حکمران جماعت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی تھی اور اسی باعث اسے قانون سازی میں انتہائی سہولت حاصل رہی۔

آج اتوار کے روز ہونے والے الیکشن کے بعد روس  میں صدارتی الیکشن اگلے سال چار مارچ کو ہوں گے۔ اس الیکشن میں موجودہ وزیر اعظم اور سابق صدر ولادی میر پوٹن بطور صدارتی امیدوار شریک ہوں گے۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس