1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس میں میٹرو بم حملہ، دشمن ’اندر کا آدمی‘ اور زیادہ خطرناک

روس کا حالیہ میٹرو بم حملہ روسی سکیورٹی فورسز کے لیے نئے چیلنجز کی نشاندہی کر رہا ہے کیونکہ مشتبہ کرغیز حملہ آور کے ’جہادی‘ کہلانے والےگروپوں کے ساتھ روابط نہیں تھے۔

روسی میٹرو ٹرین میں حملے کا مرکزی ملزم اکبرزون جلیلوف نسلاً اُزبک تھا، اُس کا تعلق بنیادی طور پر کرغیزستان کے شہر اوش سے تھا لیکن اس کے پاس روس کی شہریت تھی کیونکہ وہ برسوں پہلے اپنے والد کے ہمراہ سینٹ پیٹرزبرگ چلا آیا تھا۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے ایک جائزے میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتِ حال روسی سکیورٹی فورسز کے لیے ایک نیا چیلنج ہے اور اُن کے لیے ایسے انتہا پسند مسلمانوں کو کارروائیاں کرنے سے روکنا آگے چل کر اور بھی مشکل ہو گا، جو ’جہادی‘ کہلانے والی تحریکوں سے دُور ہیں اور روسی معاشرے میں گھُل مِل گئے ہیں۔

گزشتہ پیر کو روسی شہر سینٹ پیٹرز برگ کی ایک میٹرو ٹرین کے اندر ہونے والے ایک خود کُش حملے کے نتیجے میں چَودہ افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہو گئے تھے۔ روسی تفتیش کاروں کے مطابق یہ حملہ تیئیس سالہ جلیلوف نے کیا تھا۔

Russland Morgen nach dem Terroranschlag in der U-Bahn in St. Petersburg (DW/W. Ryabko)

روسی شہر سینٹ پیٹرز برگ کی ایک میٹرو ٹرین کے اندر ہونے والے ایک خود کُش حملے کے نتیجے میں چَودہ افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہو گئے تھے

جلیلوف نے روس میں فیس بُک سے ملتی جُلتی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ’وی کونٹاکے‘ پر اپنا اکاؤنٹ بنا رکھا تھا۔ اس اکاؤنٹ کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ وہ قدامت پسندانہ اور کٹر سمجھے جانے والے وہابی اسلام میں دلچسپی رکھتا تھا۔ دوسری طرف اس اکاؤنٹ سے البتہ ایسے کوئی اشارے نہیں ملتے کہ وہ تشدد کی طرف مائل ہو سکتا تھا۔ اس اکاؤنٹ کے تجزیے سے زیادہ تر ایک ایسے مسلمان نوجوان کی تصویر سامنے آتی ہے، جو شوق سے مغربی سُوٹ پہنتا تھا اور اپنے جیسے دیگر کئی کروڑ نوجوانوں کی طرح بڑی حد تک ایک سیکولر زندگی گزار رہا تھا، ایک ایسی زندگی کہ جس میں کسی کو اُس کے اوپر کسی قسم  کا کوئی شک و شبہ نہیں ہو سکتا تھا۔

انٹیلیجنس سروسز کے ایک روسی ماہر کے مطابق اب سکیورٹی فورسز کو دہشت گردی کے ایک بالکل ہی نئی طرح کے خطرے کا سامنا ہے۔ واضح رہے کہ عام طور پر روسی سکیورٹی فورسز ’جہادی‘ کہلانے والے عسکریت پسند گروپوں میں شامل یا اُن سے ہمدردی رکھنے والے افراد ہی کی ٹیلی فون گفتگوؤں اور انٹرنیٹ سرگرمیوں وغیرہ پر نظر رکھتے ہیں اورکوئی حملہ ہونے کی صورت میں اِسی ڈیٹا کی مدد لیتے ہیں۔ 

اکبرزون جلیلوف نے روسی سکیورٹی فورسز کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ یہ کیس برطانیہ میں ہونے والے اُس حالیہ حملے سے ملتا جُلتا ہے، جس میں خالد مسعود نامی ایک شخص نے اپنی کار راہگیروں پر چڑھا دی تھی اور تین افراد کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کرنے کے بعد ایک پولیس اہلکار کو چاقو گھونپ کر ہلاک کر دیا تھا۔ خالد مسعود کو بعد ازاں پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اکبرزون جلیلوف کی طرح خالد مسعود کے بھی ’جہادی‘ کہلانے والے گروپوں کے ساتھ کوئی روابط نہیں تھے۔

Russland Ermittler: Attentäter von St.Petersburg stammt aus Kirgistan (Reuters/5th Channel Russia)

اکبرزون جلیلوف اپنے جیسے دیگر کئی کروڑ نوجوانوں کی طرح بڑی حد تک ایک سیکولر زندگی گزار رہا تھا

جلیلوف کاروں کی مرمت کی ایک ورکشاپ میں اپنے والد کے ساتھ کام کرتا تھا۔ ایک سال تک اُس نے روس میں سُوشی ریستورانوں کی ایک شاخ میں بھی کام کیا۔ وہ روس میں مارشل آرٹس کی ایک قسم ’سامبو‘ کا بھی شیدائی تھا۔

روسی فوج شام میں صدر بشار الاسد کی افواج کے شانہ بشانہ دہشت گرد گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف برسرِپیکار ہے۔ اس گروپ کی ویڈیوز میں روسیوں کی مذمت کرتے ہوئے اُنہیں کافر قرار دیا جاتا ہے۔ اس طرح کی پراپیگنڈا ویڈیوز روس میں مقیم اُن کئی ملین نوجوانوں کے ذہنوں کو متاثر کرتی ہیں، جو بنیادی طور پر شمالی قفقاز یا پھر وسطی ایشیائی ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر مسلمان نوجوان انتہائی کم تنخواہوں والے معمولی کام کرنے پر مجبور ہیں، انہیں نسلی امتیاز کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور پولیس بھی شناختی دستاویزات دیکھنے کے لیے انہیں باقاعدگی سے روکتی رہتی ہے۔