1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’روس میں عسکریت پسندوں کو القاعدہ کی پشت پناہی حاصل ہے‘

ایک امریکی تھنک ٹینک کے مطابق القاعدہ روس میں بھی علیحدگی پسندوں کا ساتھ دی رہی ہے۔ اس ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رقوم دینے کے علاوہ القاعدہ نے روسی علیحدگی پسندوں کی مختلف معاملات میں حوصلہ افزائی بھی کی۔

default

 امریکی تھنک ٹینک ’سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے شمالی قفقاذ میں عسکریت پسندوں کو رقوم دے کر مدد مالی تعاون فراہم کیا ہے۔ روس میں علیحدگی پسند قفقاذ امارات نامی ایک الگ ریاست قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس دوران القاعدہ اور اس سے تعلق رکھنے والے گروپوں نے ہر اعتبار سے ان کی مدد کی۔  اس رپورٹ کو گورڈن ہان نے مرتب کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ القاعدہ نے جہاد کی زبردست تبلیغ کی ہے۔ روس میں آباد 20 ملین مسلمانوں میں سے نصف سے زائد صرف قفقاذ کے علاقے میں آباد ہیں۔ اپنے مشن کو  فروغ دینے کے لیے القاعدہ تنظیم نےچیچنیا اور قفقاذ کے علاقوں میں جہادی قوتوں کی نہ صرف مالی مدد کی بلکہ انہیں تربیت بھی دی۔

القاعدہ کا آن لائن شائع ہونے والا انصار المجاہدین نامی میگزین گزشتہ برس سے روس میں بھی دکھائی دینے لگا ہے۔ اس کے علاوہ روسی زبان میں ایسی ویب سائٹس میں بھی  اضافہ ہوتا جا رہا، جو عسکریت پسندی کی حمایت کر رہی ہیں۔ روسی صدر دیمتری میدویدیف نے حال ہی میں ایک بیان میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی کو ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔کریملن نے داغستان اور دیگر پسماندہ علاقوں میں اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں لیکن اس کے باوجود پرتشدد کارروائیوں میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔

Dmitri Medwedew in Russland Moskau Skolkowo bei seiner Pressekonferenz

روسی صدر دیمتری میدویدیف

گورڈن ہان نے مزید بتایا ہے کہ گزشتہ دنوں ہسپانوی پولیس نے ایک مراکشی باشندے کو گرفتار کیا تھا۔ اس پر الزام ہے کہ وہ القاعدہ کی ایک ویب سائٹ چلایا کرتا تھا اور اس ویب سائٹ کے ذریعے چیچنیا اور افغانستان کے لیے چندہ بھی جمع کیا جاتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق روس میں عسکریت پسندی میں اضافے کا ایک  ثبوت یہ بھی ہے کہ گزرے برسوں کے دوران  شمالی قفقاذ میں روسی سکیورٹی اداروں کے ساتھ جھڑپوں میں ایسے بہت سے افراد ہلاک ہوئے، جن پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔

 

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : ندیم گِل

DW.COM