1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس میں داعش کے دس مشتبہ دہشت گرد گرفتار

داخلی سلامتی کے نگران روسی خفیہ ادارے کے مطابق جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے دس ایسے مشتبہ دہشت گرد گرفتار کر لیے گئے ہیں، جو روس کے دو سب سے بڑے شہروں میں پیرس حملوں کی طرز پر دہشت گردانہ حملے کرنا چاہتے تھے۔

روسی دارالحکومت ماسکو سے ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق یہ مشتبہ عسکریت پسند روس میں داعش کے جہادیوں کے ایک سیل کے رکن تھے، جو بہت زیادہ آبادی والے روسی شہروں ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ میں بیک وقت اسی طرح کی خونریز دہشت گردی کے منصوبے بنا رہے تھے، جیسی ایک سال پہلے داعش کی طرف سے فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں کیے گئے حملوں کے نتیجے میں دیکھنے میں آئی تھی۔

روس کے ایک سرکاری اخبار نے ان گرفتاریوں کی اطلاع اتوار تیرہ نومبر کی رات دی اور لکھا کہ داعش کے عسکریت پسندوں کے اس خفیہ سیل کے جن ارکان کو حراست میں لیا گیا، وہ سب کے سب سابق سوویت یونین کی وسطی ایشیائی جمہوریاؤں کے شہری ہیں۔

ڈی پی اے کے مطابق ان مشتبہ دہشت گردوں کا تعلق ازبکستان، کرغزستان اور تاجکستان سے ہے اور انہوں نے کئی بم اور بہت سا اسلحہ بارود جمع کر رکھا تھا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق ان ملزمان سے کئی کلاشنکوف رائفلوں اور دیسی ساخت کے متعدد بموں کے علاوہ کافی مقدار میں بارودی مواد اور بموں کی تیاری میں استعمال ہونے والا بہت سے سامان بھی برآمد کر لیا گیا۔

داخلی سلامتی کے نگران روسی خفیہ ادارے ایف ایس بی کا حوالہ دیتے ہوئے روس کے ایک سرکاری روزنامے نے لکھا کہ یہ مشتبہ دہشت گرد مبینہ طور پر کل اتوار 13 نومبر کے روز ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ میں عین اس دن بیک وقت لیکن منظم دہشت گردانہ حملے کرنا چاہتے تھے، جب پیرس میں گزشتہ برس کیے جانے والے اسی طرح کے خونریز حملوں کی برسی منائی جا رہی تھی۔

Sankt Petersburg Eremitage bei Nacht (picture alliance/Widmann-McP/Bildagentur-online)

زیادہ تر دہشت گردوں کو سینٹ پیٹرزبرگ سے گرفتار کیا گیا

بتایا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے مبینہ جہادیوں میں سے زیادہ تر کو سینٹ پیٹرزبرگ سے گرفتار کیا گیا۔گرفتار کیے جانے والے کل دس مشتبہ دہشت گردوں میں سے ایک مبینہ طور پر شام میں داعش کی طرف سے لڑتا بھی رہا ہے۔

ان مشتبہ عسکریت پسندوں کی روس میں گرفتاری ازبکستان، کرغزستان اور تاجکستان کے سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون اور معلومات کے تبادلے کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

شام کے کئی سالہ تنازعے میں روس صدر بشار الاسد کی حکومت کا سیاسی اور عسکری حلیف ہے اور گزشتہ ایک سال سے بھی زائد عرصے سے شام میں داعش اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے بھی کر رہا ہے۔

DW.COM