1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس میں جرمن پارلیمانی عمارت کی نقل، وجہ ’روسی قبضے کی مشق‘

روسی حکومت ماسکو کے نواح میں برلن میں جرمن پارلیمانی عمارت کی ایک ایسی نقل تعمیر کرنا چاہتی ہے، جہاں ’اس تاریخی عمارت پر روسی قبضے کی شوقیہ مشق‘ کی جا سکے گی۔ جرمن حکومت نے اس روسی منصوبے کو ’حیران کن‘ قرار دیا ہے۔

Symbolbild - Berlin (Fotolia/Stefan Delle)

برلن میں رائش ٹاگ کی تاریخی عمارت کی ایک حالیہ تصویر

وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے جمعہ چوبیس فروری کو موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ماسکو میں روسی وزارت دفاع نے بدھ بائیس فروری کے روز کہا تھا کہ وہ ماسکو کے مضافات میں ایک فوجی تھیم پارک میں جرمن پارلیمان کی عمارت ’رائش ٹاگ‘ کی ایک نقل تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

برلن میں ’رائش ٹاگ‘ وہی عمارت ہے، جس پر دوسری عالمی جنگ کے آخری دنوں میں نازی جرمنی کی حتمی شکست کے وقت کالعدم سوویت یونین کی ریڈ آرمی کے دستوں نے 1945ء میں قبضہ کر لیا تھا۔

نازی رہنما گوئبلز کی سیکرٹری کا 106 برس کی عمر میں انتقال

نازی دور میں یہودی قتل عام ’پندرہ افراد کا فیصلہ‘ تھا

روسی وزارت دفاع کے مطابق ماسکو کے نواح میں فوجی نوعیت کے ایک تفریحی پارک میں اس عمارت کی نقل تیار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہاں آنے والے ’نوجوان محب وطن‘ مہمان اگر چاہیں، تو سوویت فوجوں کی طرف سے اس عمارت پر قبضے کا ’تفریحی اعادہ‘ کر سکیں۔

اس روسی منصوبے پر جرمن حکومت کے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے برلن میں ایک حکومتی ترجمان نے جمعے کے روز کہا، ’’یہ روسی فیصلہ حیران کن ہے، جو خود ہی اپنی وضاحت کے لیے کافی ہے۔‘‘ جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان مارٹن شیفر نے ایک سرکاری پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا، ’’جرمنی اپنے ہاں نوجوانوں کی ’بہتر تربیت‘ کے لیے اس طرح اس عمارت کی کوئی نقل تیار نہ کرتا۔‘‘

Deutschland Sowjetunion Zweiter Weltkrieg die Rote Armee in Berlin Flagge auf Reichstag (picture-alliance/akg)

رائش ٹاگ پر قبضے کے بعد ایک روسی فوجی اس تباہ شدہ عمارت پر سوویت یونین کا پرچم لہراتے ہوئے

Reichstag Berlin Ruine Flash-Galerie (AP)

دوسری عالمی جنگ کے خاتمے تک اتحادیوں کی بمباری اور آتشزدگی کے باعث رائش ٹاگ کی عمارت بری طرح تباہ ہو چکی تھی

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ روسی وزارت دفاع جس ملٹری تھیم پارک میں ’رائش ٹاگ‘ کی ہو بہو نقل تیار کرنا چاہتی ہے، وہ ماسکو سے کچھ دور کیوبِنکا کے مقام پر واقع ہے، جسے ’پیٹریئٹ پارک‘ یا ’محب وطن لوگوں کا پارک‘ کہا جاتا ہے۔ اس پارک کا افتتاح موجودہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے 2015ء میں اس وقت کیا تھا، جب روس میں فوجی بیان بازی اور حب الوطنی کے جذباتی مہم عروج پر تھے۔

آبے کا پرل ہاربر کا دورہ امریکی جاپانی ’مفاہمت کی علامت‘

سابقہ نازی جرمن جنگی قیدی ساری پونجی سکاٹش گاؤں کو دے گیا

جرمنی میں نازی دور حکومت اور دوسری عالمی جنگ کے آخری دنوں میں برلن میں ’رائش ٹاگ‘ کی عمارت پر قبضہ بنیادی طور پر روسی (سوویت) دستوں نے ہی کیا تھا، اور تب اس تاریخی عمارت کے تقریباﹰ ہر کمرے میں لڑائی لڑی گئی تھی۔

روسی حکومت کے اندازوں کے مطابق دوسری عالمی جنگ میں سوویت یونین کے 20 ملین یا دو کروڑ سے زائد شہری مارے گئے تھے۔ نازی جرمنی کے خلاف اتحادی ملکوں کی اس جنگی فتح کو، جس میں سوویت یونین بھی شامل تھا، روس میں آج بھی قومی سطح پر ایک انتہائی قابل فخر کامیابی سمجھا جاتا ہے۔

DW.COM