1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس فضائی حدود کی خلاف ورزی سے باز رہے، انقرہ کا انتباہ

ترکی نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر احتجاج کرنے کے لیے روسی سفارت کار کو طلب کر لیا ہے۔ انقرہ ذرائع کے مطابق روسی جنگی طیارے شامی سرحد کے قریب ترکی کی حدود میں داخل ہوئے تھے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ترک وزارت خارجہ نے روسی سفیر کو وزارت خارجہ بلا کر کہا کہ مستقبل میں اس طرح کوئی خلاف ورزی نہ ہو اور احتیاط برتی جائے۔ وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں بتایا گیا ہے کہ روسی طیارے گزشتہ اختتام ہفتہ پر ترکی کے صوبے ہاتے کے شہر ’یولاداگی‘ میں داخل ہوئے تھے۔ ہفتے کو رونما ہونے والے اس واقعے کے بعد ترکی نے فوراً ہی اپنے دو ایف سولہ طیارے فضا میں روانہ کر دیے اور اُن کی مداخلت کے بعد روسی طیاروں کو دوبارہ شامی حدود میں داخل ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔

انقرہ حکام نے روسی سفارت کار پر واضح کیا کہ آئندہ ایسی کسی بھی دراندازی کی صورت میں نتائج کی ذمہ داری ماسکو حکام پر ہی عائد ہو گی۔ اس کے علاوہ ترک وزیر خارجہ نے ٹیلیفون پر اپنی روسی ہم منصب سے بھی بات کی ہے۔ دوسری جانب صدر ولادی میر پوٹن کے ترجمان دیمتیری پیشکوف نے کہا ہے کہ اس معاملے کی چھان بین شروع کر دی گئی ہے۔’’ ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کی رپورٹوں پر تحقیقات جاری ہیں اور صورتحال واضح ہونے کے بعد ہی کوئی بیان جاری کیا جائےگا‘‘۔

روسی طیاروں کی جانب سے ترک فضائی حدود میں داخل ہونے کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے، جب انقرہ حکام کی جانب سے شام میں روس فضائی کارروائیوں پر خدشات کا اظہار کیا گیا۔ شامی صدر بشارالاسد کے حوالے سے روس اور ترکی کا موقف بھی ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ روس اسد کا حامی ہے جبکہ ترکی انہیں شامی تنازعے کا ذمہ داری قرار دیتے ہوئے اقتدار سے الگ دیکھنا چاہتا ہے۔

درین اثناء روسی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ روسی جنگی طیاروں نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران شام میں اسلامک اسٹیٹ کے نو ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا، جن میں کمانڈ سینٹر اور اسلحہ بارود کے گوادم بھی شامل ہیں۔ اس بیان میں مزید بتایا گیا کہ یہ کارروائیاں حمص، ادلب، حما اور الاذقیہ میں کی گئیں۔ ماسکو حکام کے بقول شام میں کیے جانے والے ان فضائی حملوں کا ہدف اسلامک اسٹیٹ اور القاعدہ سے منسلک گروپس ہیں۔ بدھ سے شروع کیے جانے ان حملوں میں مغرب کے حمایت یافتہ گروپس کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔