1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس عالمی ادارہء تجارت کا رکن بننے کے قریب پہنچ گیا

روس اور جارجیا کے مابین ایک اہم تجارتی معاہدہ طے پاگیا ہے، جس سے روس کے عالمی ادارہ ء تجارت ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا رکن بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

default

سوئٹزرلینڈ کی ثالثی سے طے پانے والے اس معاہدے کو جارجیا بھی اپنی ’فتح‘ قرار دے رہا ہے۔ معاہدے کے تحت جارجیا سے یکطرفہ طور پر علیٰحدگی کا اعلان کرنے والے خطوں ابخازیہ اور جنوبی اوسیتیا کے راستے ہونے والی تجارت کی بین الاقوامی مانیٹیرنگ ہوگی۔ روس ان دونوں خطوں کی جارجیا سے علیٰحدگی کا حامی ہے اور ماسکو حکومت اب سے قبل اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکاری تھی۔

جنیوا میں سوئس ثالثوں کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، ’’ روس اور جارجیا کے نمائندوں نے بدھ کو جنیوا میں دو طرفہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے مابین تجارتی سامان کی نقل و حمل کی کسٹم انتظامیہ کے تحت مانیٹرنگ ہوگی۔‘‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس معاہدے کے تحت فریقین نے روس کی مستقبل قریب میں عالمی ادارہء تجارت کا رکن بننے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ سوئس وزارت خارجہ نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ اس معاہدے سے جارجیا اور روس کے مابین تجارتی تعلقات میں بھی بہتری آئے گی۔

Georgien Russland Armee bei Gori Flash-Galerie

روس ااور جارجیا کی جنگ کے دوران روسی فوجی ایکشن میں

یاد رہے کہ روس نے 1993ء سے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا رکن بننے کے لیے درخواست جمع کروا رکھی ہے۔ اس ضمن میں مذاکرات کا عمل طول اختیار کرتا گیا اور 2008ء میں جارجیا کے ساتھ کم عرصے کی ایک جنگ نے روس کی رکنیت کو مزید التوا میں ڈال دیا۔

اس کے برعکس جارجیا پہلے سے ہی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا رکن ہے اور وہ روس کی رکنیت کو ویٹو کرسکتا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین افہام و تفہیم کے لیے سوئٹزرلینڈ کی حکومت گزشتہ کئی ماہ سے سرگرم عمل تھی۔

معاہدے کے تحت ایک نجی کمپنی کے نمائندے روس اور جارجیا کے مابین تجارت کو مانیٹر کریں گے اور تنازعہ پیدا ہونے کی صورت میں سوئس حکومت ثالث کا کردار ادا کرے گی۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں جارجیا کے سفیر زورب شیابراشویلی کا کہنا ہے کہ ان کے تمام مطالبات معاہدے میں شامل ہیں، اس لیے یہ ان کی فتح ہے۔ چونکہ روس ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے رکنیت کے معاملے پر یورپی یونین، امریکہ اور چین سے پہلے معاملات طے کر چکا ہے اسی لیے اب دسمبر میں اسے رکنیت مل جانے کی قوی امید ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM