1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

روس دارفور سونے کی کان کنی پر خفیہ رپورٹ کیوں روک رہا ہے؟

روس اقوام متحدہ کی ایک خفیہ رپورٹ کا اجرا روکے ہوئے ہے، جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہاں سوڈان کی حکومت کی حامی ملیشیا کس طرح 54 ملین ڈالر سالانہ سونے کی کان کنی میں ملوث ہیں۔

یہ رپورٹ ماہرین کے ایک پینل نے گزشتہ برس دسمبر میں اقوام متحدہ کی پابندیاں عائد کرنے والی کمیٹی کے حوالے کی تھی، تاہم روس کی جانب سے تحفظات کی وجہ سے یہ رپورٹ اب تک منظرعام پر نہیں آ سکی۔ روس اور سوڈانی حکومت کے درمیانی قریبی تعلقات ہیں۔

اقوام متحدہ میں روسی نائب سفیر پیٹر لیچیف نے اس موضوع پر صحافیوں سے بات چیت میں کہا، ’’ہم نہیں چاہتے کہ یہ رپورٹ جاری کی جائے، کیوں کہ ہم شروع سے کہہ رہے ہیں کہ یہ ماہرین اس طرح پیش نہیں آ رہے، جیسا رویہ انہیں اصل میں اختیار کرنا چاہیے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پینل کے مینڈیٹ میں ’غیرجانب دار ذرائع‘ کی نگرانی کو شامل نہیں کیا جاتا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بدھ کے روز دارفور کے تنازعے پر بات چیت ہو رہی ہے، جہاں افریقی یونین کا امن مشن سوڈانی فوج اور باغیوں کے درمیان جاری لڑائی میں پھنس جانے والے عام شہریوں کی مدد کی کوششوں میں ہے۔ دارفور میں حکومتی فورسز اور باغیوں کے لیے دیگر عسکری گروہ بھی موجود ہیں، جو اس لڑائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صورت حال کو مزید ابتر بنا رہے ہیں۔

اس تنازعے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل منقسم نظر آتی ہے، جہاں ایک طرف امریکا، برطانیہ اور فرانس سوڈانی حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ذمہ داری عائد کرتے ہیں اور دوسری جانب چین اور روس دارفور میں عسکریت پسندی کو اس صورت حال کا ذمہ داری قرار دیتے ہوئے سوڈانی حکومتی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہیں۔

Goldmine Sudan Wüste Khartum

سوڈانی حکومت اپنے حامی عسکری گروہوں کی پشت پناہی کرتی ہے

اس رپورٹ میں اقوام متحدہ کے پینل کا کہنا تھا کہ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ دارفور میں ارٹیسنل گولڈ مائن کا کنٹرول حکومت کے حامی عسکری گروہ ابالا آرمڈ گروپ AAG کے پاس ہے۔ اس گروپ کی قیادت شیخ موسیٰ ہلال کرتا ہے، جس کا نام اقوام متحدہ کی جانب سے سن 2006ء میں عائد کردہ پابندیوں کے شکار افراد کی فہرست میں ہے۔ اس شخص پر اُس علاقے میں ظالمانہ کارروائیوں کا الزام عائد ہے۔

اے ایف پی نے اس رپورٹ میں درج تفصیلات کے حوالے سے بتایا ہے کہ سونے کی جبل عامر کان سے حاصل ہونے والے سونے کا ایک بڑا حصہ پہلے دارفور کے علاقے الجنینہ جاتا ہے اور وہاں سے اسے ہوائی راستے سے خرطوم منتقل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ سونا غیرقانونی طور پر متحدہ عرب امارات بھیج دیا جاتا ہے۔