1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس جان لے کہ برداشت کی ایک حد ہے، ترکی

ترک وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ بحری جہاز کے معاملے پر روس کے بڑھا چڑھا کر پیش کرنے پر روس ترکی کے صبر کا امتحان نہ لے، کیوں کہ اس کی ایک حد ہے۔

پیر کے روز ایک اطالوی اخبار میں شائع ہونے والے بیان میں ترک وزیرخارجہ کاؤس آؤلو نے کہا کہ روس اتوار کے روز پیش آنے والے واقعے کو خواہ مخواہ بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ اتوار کے روز بحیرہء ایجیئن میں ایک روسی جنگی بحری جہاز نے تصادم سے بچنے کے لیے ایک ترک کشتی کی جانب انتباہی گولے فائر کیے تھے، جب کہ ماسکو نے ترکی کے ملٹری اتاچی کو طلب کر کے اس معاملے کی وضاحت مانگی تھی۔

کاؤس آؤلو نے کہا، ’’یہ صرف ایک ماہی گیر کشتی تھی اور لگتا ایسا ہے کہ روسی بحری جہاز نے غیر ضروری ردعمل کا مظاہرہ کیا۔‘‘

اطالوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کاؤس آؤلو نے کہا، ’’روس اور ترکی کو یقینی طور پر اعتماد کے رشتے کو ازسرنو قائم کرنے کی ضرورت ہے، جو ماضی میں ہمیشہ رہا ہے۔ تاہم ہمارے صبر کی ایک حد ہے۔‘‘

گزشتہ ماہ ترک فضائیہ نے ایک روسی جنگی جہاز کو شامی سرحد کے قریب مار گرایا تھا۔ تب ہی سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں اور اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے سخت الفاظ کا تبادلہ جاری ہے۔ اس نئے واقعے نے ان کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر دیا ہے۔

Russland Präsident Putin Rede zur Lage der Nation

روسی صدر نے ترک قیادت پر اسلامک اسٹیٹ کے ساتھ تجارتی روابط کا الزام عائد کیا تھا

کاؤس آؤلو نے کہا کہ روسی صدر کی جانب سے اس بیان نے کہ ترکی نے دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ سے تیل کی سپلائی کو تحفظ دینے کے لیے روسی طیارہ گرایا، پہلے ہی روس کو ایک نہایت بری پوزیشن پر لے جا چکا ہے، جس پر کسی نے یقین نہیں کیا۔

کاؤس آؤلو نے ایک مرتبہ پھر شام میں روسی عسکری مداخلت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد صرف اور صرف شامی صدر بشار الاسد کے اقتدار کو دوام دینا ہے اور روس اسلامک اسٹیٹ کے خلاف کارروائیاں نہیں کر رہا ہے۔

’’بدقسمتی سے روس شام میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے نہیں گیا ہے۔‘‘

انہوں نے کہ اب تک روس طیاروں نے صرف آٹھ فیصد ایسی کارروائیاں کی ہیں، جن میں اسلامک اسٹیٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے اور 92 فیصد کارروائیوں کا ہدف اسد مخالف دیگر گروپ رہے ہیں۔

اطالوی اخبار کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں کاؤس آؤلو نے کہا کہ شام میں اسلامک اسٹیٹ کو شکست دینے کے لیے صرف فضائی کارروائیاں کافی نہیں ہیں اور اس کے لیے زمینی فوج کی اشد ضرورت ہے۔