1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس اور چین کی نزدیکیاں

روسی اور چینی کمپنیوں کے درمیان تین اعشاریہ پانچ ارب ڈالر مالیت کے تجارتی معاہدوں پر دستخط ہوگئے۔

default

روسی اور چینی کمپنیوں کے درمیان تین اعشاریہ پانچ ارب ڈالر مالیت کے تجارتی معاہدوں پر دستخط ہوگئے ہیں۔ روسی وزیراعظم ولادی میر پوتن اپنے دورے کے دوسرے روز چین میں موجود ہیں۔ پوتن اپنے چینی ہم منصب وین جیا باؤ کے ساتھ ملاقات کریں گے، جس میں عالمی سیاسی منظر نامے کے اہم معاملات پر غور وخوص کے علاوہ روسی گیس کی چین کو سپلائی کے اہم معاہدے پر بھی بات ہوگی۔

Russland Pipeline Rohre mit Gazprom Logo

منصوبہ مکمل ہونے کی صورت میں روس سے سالانہ ستر کیوبک میٹر گیس چین کو سپلائی ہو گی۔

تین اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کے دستخط شدہ معاہدوں میں گیس سپلائی، مواصلات، سیمنٹ کی تجارت سے متعلق منصوبوں کے علاوہ روس میں چین کے تعاون سے تیز رفتار ریلوے لائن کی تعمیراور روس کے لئے پانچ سو ملین ڈالر زرعی قرضہ کے منصوبے شامل ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ دونوں ممالک کے صدور کے درمیان فوری رابطے کے لئے ہاٹ لائن کے قیام پر بھی پیش رفت کا امکان ہے۔

روسی سرکاری گیس کمپنی گیزپروم، منصوبہ مکمل ہونے کی صورت میں روس سے سالانہ ستر کیوبک میٹر گیس چین کو سپلائی کر سکےگی۔ اس معاہدے پر تین سال قبل ابتدائی بات چیت کے بعد سے پیش رفت نہیں ہوسکی ہے، جس کی وجہ گیس کی قیمت کا تعین نہ ہونابتایا جاتا ہے۔

China Volkskongress in Peking Flagge und Mao

چین، روس کو اپنے ایک مضبوط اتحادی کے طورپر دیکھتا ہے

روسی حکمراں جماعت کے صدر اور ملکی وزیراعظم ولادی میر پوتن کے حالیہ دورے کا مقصد شمالی کوریا اور ایران کے جوہری معاملات پر چینی حکام سے مشاورت کے ساتھ ساتھ گیس کی سپلائی کے اس بہت بڑے منصوبے پر بھی کام کو مزید آگے بڑھانا ہے۔

دونوں ممالک نظریاتی طورپر ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اور بہت سے عالمی امور پر یکساں موقف رکھتے ہیں۔ روس اور چین کے درمیان سالانہ ستاون ارب ڈالر مالیت کی دوطرفہ تجارت اس مالی سال کے آغاز میں سترہ ارب ڈالر تک محدود ہوگئی ہے۔ حالیہ مالیاتی بحران کے باعث روس، ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن چین سے معاشی تعلقات مزید مضبوط کرنے میں انتہائی دلچسپی ظاہر کررہا ہے۔

مئی میں صدر منتخب ہونے والے دیمتری میدویدیف نے عہدہ سنبھالنے کےبعد چین کے دورے پر کہا تھا: ''توانائی کے شعبوں بالخصوص خلائی سفر، انفارمیشن ٹیکنالوجی وغیرہ میں بھی ہمارے تعلقات مزید بڑھیں گے۔ بہت سے معاملات پر ہمارا یکساں موقف علاقائی اور عالمی سطح پر ہمارے لئے مددگار ہے جیسے کے دفاعی میزائل نظام کی تنصیب وغیرہ۔''

دوسری طرف چین, روس کو اپنے ایک مضبوط اتحادی کے طورپر دیکھتا ہے جو امریکی اثر و رسوخ کے مقابلے میں اس کا ساتھ دینے کے ساتھ ساتھ توانائی کے وسائل بھی مہیا کرتا ہے۔ چین کا دورہ کرنے والے روسی وزیراعظم ولادی میر پوتن کے ایجنڈے پر وین جیا باؤ کے ساتھ ملاقات کے علاوہ شنگائی علاقائی تعاون کی تنظیم کے اجلاس میں شرکت کرنا بھی شامل ہے۔

رپورٹ: شادی خان

ادارت: عدنان اسحاق