1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس اور چین کی عالمی سطح پر اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش

روسی وزیر اعظم ولادیمیر پوٹن نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی اقتصادی نمو کے لیے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری پر زو دیا ہے۔ اس تنظیم میں پاکستان سمیت کسی بھی دوسرے ملک کی رکنیت کے معاملے پر پیشرفت کا اعلان نہیں

default

شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اہم اجلاس روسی شہر سینٹ پیٹرز برگ میں منعقد ہوا، جس میں روسی وزیر اعظم کے بشمول، چینی وزیر اعظم وین جیا باؤ، قزاقستان، کرغزستان اور ازبکستان کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔ پاکستان، بھارت، ایران اور منگولیا نے علاقائی تعاون کی اس تنظیم کے اجلاس میں مبصرین کی حیثیت سے شرکت کی جبکہ افغانستان اور ترکمانستان کے نمائندوں کو مہمانوں کی حیثیت دی گئی تھی۔

روسی وزیر اعظم اپنے بیان میں کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک مل کر اس تنظیم کو معیشت اور سلامتی کے امور میں عالمگیر قوت بنائیں: ’’ ہمیں اپنے عزائم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپنی تنظیم کو عالمی سطح پر اقتصادی اور سیاسی ڈھانچے کا معمار بنانا چاہیے۔‘‘ پوٹن نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ اس لیے بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ عالمی معیشت مشکلات میں گِھری ہوئی ہے۔

روسی وزیر اعظم نے افغانستان میں سلامتی کی ناقص صورتحال اور وہاں سے منشیات کی اسمگلنگ کو تنظیم کے رکن ممالک کی اقتصادی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ وزیر اعظم پوٹن نے ایران اور شمالی افریقہ کے معاملات پر مغربی طاقتوں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام سے متعلق فوجی کارروائی کی مخالفت کی۔

Gipfel der Schanghai Gruppe in Usbekistan

تنظیم کے ایک سابقہ اجلاس کا منظر

چینی وزیر اعظم وین جیا باؤ نے اس موقع پر وسطی ایشیائی ممالک میں توانائی اور آمد ورفت سے متعلقہ منصوبوں بالخصوص پائپ لائنوں اور سڑکوں کی تعمیر پر زور دیا۔ انہوں نے کہا: ’’ہم تنظیم کے رکن ممالک میں سڑکوں کی تعمیر اور انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے حمایت کرتے ہیں۔‘‘

انہوں نے اس مقصد کے لیے کم شرح سود پر قرضوں کی فراہمی کا بھی اعلان کیا۔ بالواسطہ طور پر چینی وزیر اعظم نے اپنے بیان میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی تجارت میں بڑی عالمی کرنسیوں کے بجائے اپنی مقامی کرنسی استعمال کریں۔ یاد رہے کہ چین کے پاس دنیا بھر میں زرمبادلہ کے سب سے بڑے ذخائر موجود ہیں جبکہ روس تیسرے نمبر پر ہے۔

روسی وزیر اعظم پوٹن نے یورو زون کے رکن ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک اپنی معیشتوں پر توجہ دیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM