1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت

سرد جنگ کے دور کے حریف ممالک پاکستان اور روس ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر مختلف شعبوں میں تعاون کے ذریعے اب ایک دوسرے کے قریب آتے جا رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق روس پاکستان سے گیس کے شعبے میں بھی تعاون کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان کے انگریزی روزنامہ ’ایکسپریس ٹریبیون‘ کے مطابق روس میں توانائی کے شعبے کے سب سے بڑے ادارے گیس پروم (Gazprom) اور پاکستان کی آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی نے باہمی مفاہمت کی ایک یادداشت پردستخط بھی کیے ہیں، جس کے بعد تیل اور گیس کے شعبے میں دوطرفہ تکنیکی تعاون کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

روسی فوجی پاکستانی قبائلی علاقوں میں

افغان امن کے لیے ماسکو میں اجلاس، کابل حکومت اور طالبان لاتعلق

دونوں ممالک تیل اور تیل کی تلاش کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے، جس سے تین سے چار بلین ڈالر تک کی سرمایہ کاری ممکن ہے۔ پاکستان اور روس کے درمیان سندھ سے پنجاب تک مائع قدرتی گیس کی پائپ لائن کے حوالے سے پہلے ہی بات چیت چل رہی ہے۔ اس پروجیکٹ کی مالیت دو بلین ڈالر بنتی ہے۔ جریدے کے مطابق روس نے پاکستان میں آٹھ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جس میں سے زیادہ تر سرمایہ کاری توانائی کے شعبے میں کی جائے گی۔


ایک ایسے وقت پر جب پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے واشنگٹن اپنی نئی پالیسی ترتیب دے رہا ہے اور اسلام آباد کو سخت پیغامات بھی بھیجے جا رہے ہیں، سیاسی مبصرین اور تجزیہ کار روس اور پاکستان کی آپس میں بڑھتی ہوئی اس قربت کو بہت اہم قرار دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی امور کی معروف تجزیہ کار اور کراچی یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات کی سابق سربراہ ڈاکٹر طلعت اے وزارت کے مطابق یہ بڑھتے ہوئے تعلقات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ماسکو اور اسلام آباد دونوں ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر طلعت نے کہا، ’’آپ جانتے ہیں کہ سیاست میں دوست اور دشمن ابدی نہیں ہوتے بلکہ ریاستوں کے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ پاکستان کو توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جو مغرب اور امریکا نہیں کرنا چاہتے۔ مغرب اور امریکا سے پاکستان کی قربت جب بھی بڑھی ہے، تو اس نے پاکستان کو ہمیشہ جنگ اور تصادم کی طرف ہی دھکیلا ہے۔ لہٰذا اب پاکستان دوسرے ممالک کی طرف دیکھ رہا ہے۔‘‘

امریکا اور بھارت کے درمیان بھی حالیہ برسوں میں قربت بڑھی ہے اور واشنگٹن نے نئی دہلی کے ساتھ کئی ایسے معاہدے کیے ہیں، جن پر اسلام آباد ناراض نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر طلعت اے وزارت کے خیال میں بھارت نواز امریکی پالیسی نے بھی پاکستان کو امریکا سے بدظن کیا ہے۔

Shanghai Cooperation Organisation Gipfel in Ufa Premierminister Nawaz Sharif und Präsident Wladimir Putin

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف، بائیں، روسی صدر پوٹن کے ساتھ

انہوں نے کہا، ’’امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا، جس کی وجہ سے اس ملک میں بھارت کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے اور وہاں سے نئی دہلی سی پیک کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ پاکستان میں اب یہ خیال عام ہے کہ امریکا افغانستان میں امن نہیں چاہتا بلکہ اپنی موجودگی کا جواز بنانے کے لیے وہ اس خطے میں کشیدگی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اس صورت حال میں پاکستان، روس، ایران اور خطے کے دوسرے ممالک پریشان ہیں ۔اسی لیے وہ علاقائی تعاون پر زور دے رہے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر طلعت کے مطابق داعش کا افغانستان میں خطرہ، پاکستان کے مطابق امریکا کا نامناسب رویہ اور پاکستان کی اقتصادی پالیسی وہ عوامل ہیں، جنہوں نے ماسکو اور اسلام آباد کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد دی۔

پاکستان حکومت ٹرمپ انتظامیہ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی

افغانستان سے متعلق مذاکراتی عمل میں پہلی بار بھارت بھی شامل

روس کی افغانستان میں دلچسپی اچانک کیوں بڑھ گئی ہے؟

’’روس، ایران اور کئی ممالک میں یہ تاثر ہے کہ امریکا اور مغرب نے مبینہ طور پر داعش کی حمایت کی ہے۔ چند برس قبل عراقی آرمی نے ایک طیارہ مار گرایا تھا، جو مبینہ طور پر داعش کے لیے ہتھیار لے کر جا رہا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ایک مغربی ملک کا طیارہ تھا۔ اب داعش افغانستان میں بھی پہنچ گئی ہے، جس پر پاکستان، ایران، روس اور چین سب کو کو تشویش ہے۔ اسی تشویش کی وجہ سے یہ ممالک آپس میں علاقائی تعاون پر زور دے رہے ہیں تاکہ اس مشترکہ دشمن سے نمٹا جائے۔‘‘
اسی دوران معروف ماہر اقتصادیات اور سیاسی تجزیہ نگار قیصر بنگالی نے اس مسئلے پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’پاکستان اور روس کے درمیان معاشی تعاون سے پاکستان کے لیے کئی تجارتی مواقع کھلیں گے۔ پاکستان کی رسائی نہ صرف وسطی ایشیا تک ممکن ہو گی بلکہ پاکستان میں بننے والا تجارتی راستہ اس کو ماسکو سے بھی جوڑ دے گا، جس سے خطے میں تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی اور اس سے اسلام آباد کو بھی بہت فائدہ ہوگا۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں قیصر بنگالی نے کہا، ’’سرد جنگ کے دوران روسی توجہ کا محور بھارت تھا۔ لیکن اب چونکہ نئی دہلی واشنگٹن سے قربت بڑھا رہا ہے تو روس کے لیے یہ فطری بات ہے کہ وہ پاکستان کی طرف دیکھے اور اسلام آباد سے اپنے تعلقات بہتر بنائے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ اس موقع کو ضائع کر دے۔ اسی لیے اسلام آباد روس کے مثبت رویے کا بہتر انداز میں جواب دے رہا ہے۔‘‘

DW.COM