1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس اور وینیزویلا : متعدد اہم معاہدوں پر دستخط

روسی وزیراعظم ولادیمر پوتن نے وینیزویلا کے صدر کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کے کئی اہم معاہدوں پر دستخط کر دئے ہیں۔ ان معاہدوں میں روس کی جانب سے وینیزویلا کو جوہری توانائی کے شعبے میں بھی معاونت شامل ہے۔

default

ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے نیوزکانفرنس سے بھی خطاب کیا

وینیزویلا کے دورہ پر گئے ہوئے روسی وزیراعظم ولادیمر پوتن نے ان معاہدوں پر دارالحکومت کراکس میں دستخط کئے۔ وینیزویلا کے صدر ہوگو چاویز کے مطابق روس ان کے ملک کے لئے جوہری پلانٹ اور خلائی صنعت کی تیاری کے لئے تیار ہوگیا ہے۔ تاہم چاویز نے کہا کہ روس اور وینیزویلا امریکہ کے خلاف کوئی اتحاد قائم نہیں کر رہے ہیں۔ دستخطوں کی اس تقریب میں بولیویا کے صدرایوو مورالیس بھی موجود تھے۔

BdT Russische Rakete fährt nach ISS

روس خلائی تحقیق کے شعبے میں بھی وینیزویلا کی مدد کرے گا

مبصرین کے مطابق پوتن کا دورہ کراکس وینیزویلا کے لئے 1999ء میں امریکی صدر بل کلنٹن کے دورے کے بعد سب سے اہم ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس دورے کے بعد دنیا بھر کو یہ پیغام ملا ہے کہ وینیزویلا کوئی تنہا ملک نہیں بلکہ دفاعی سازوسامان، توانائی اور بین الاقوامی تعلقات جیسے شعبوں میں اسے روس کی حمایت حاصل ہے۔ روسی وزیراعظم نے کراکس میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ روس خلائی تحقیق کے شعبے میں وینزویلا کے اپنی صنعت کے قیام میں بھرپور تعاون کرے گا۔

وزیراعظم پوتن کی آمد سے قبل اپنے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں ہوگو چاویز نے اس دورے کو اپنے ملک اور براعظم جنوبی امریکہ کے لئے ایک تاریخی موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہ کہا کہ یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ چاویز کے مطابق اس دورے سے کثیر الطاقتی دنیا کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔

ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں ہوگو چاویز نے کہا کہ وینیزویلا پرامن جوہری توانائی کے شعبے میں اپنے پہلے پروجیکٹ کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وینیزویلا ’ایٹم بم‘ نہیں بنائے گا۔

وینیزویلا کو اس وقت توانائی کے شعبے میں بحران کا سامنا ہے اور اس معاملے میں کراکس کی نظریں جوہری توانائی سے استفادے پر مرکوز ہیں۔

روس اور وینیزویلا کے درمیان دفاع کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون پر امریکہ نے تشویش ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب ہوگو چاویز نے کہا: ’’ہم امریکہ کے خلاف اتحاد کے قیام میں مصروف نہیں۔ ہمیں کوئی پرواہ نہیں کہ واشنگٹن کیا سوچتا ہے۔‘‘

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : کشورمصطفیٰ