1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

روس اور مغرب کے درمیان کشیدگی کا اثر پولستانی سیب پر

یوکرائنی علاقے کریمیا پر قبضے کے بعد امریکا اور یورپی یونین نے روسی کاروباری اداروں اور متعدد شخصیات پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جب کہ جواب میں روس نے بھی یورپ سے زرعی اجناس کی درآمد روک رکھی ہے۔

یورپی یونین کے ایسے ممالک جن کا انحصار زرعی برآمدات پر ہے، روس کی جانب سے جوابی پابندیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ پولینڈ بھی ایسے ہی ممالک میں سے ایک ہے، جو گزشتہ دو برس سے عائد ان پابندیوں کو قائم رکھنے اور روس کے جارحانہ اقدامات کے جواب میں مشرقی یورپ میں نیٹو کی بھاری تعیناتی کا حامی ہے۔

دو برس ہو چکے ہیں تاہم اب پولستانی کسان اور زرعی پیدوار سے منسلک دیگر افراد کا کہنا ہے کہ روس پر عائد پابندیاں ختم کی جانا چاہیئں تاکہ وہ بھی جوابی پابندیاں اٹھا لے۔ فرانس اور آسٹریا سمیت متعدد دیگر یورپی ممالک میں بھی ایسے ہی مطالبے سامنے آر ہے ہیں۔

BdT Deutschland Apfelernte im Alten Land

روس نے یورپی زرعی اشیاء پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں

پولستانی سیبوں کے برآمدکنندگان کے برخلاف وارسا حکومت روس کی کھلی مخالفت کرتی ہے اور وہ چاہتے ہے کہ کسی ممکنہ روسی جارحیت کی روک تھام کے لیے نیٹو یورپ کی مشرقی سرحدوں پر مزید دفاعی اقدامات کرے۔

کچھ عرصے تک پولستانی سیب برآمدکنندگان پابندیوں کے باوجود روس میں سیبوں کی ترسیل کا عمل جاری رکھے ہوئے تھے۔ اس کے لیے وہ کسی تیسرے ملک یعنی بیلاروس یا یوکرائنی اور کریمیا کے ذریعے یہ سیب روس پہنچا دیتے تھے، تاہم بعد میں یہ سلسلہ بھی رک گیا۔

چند روسی ہول سیلرز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اب بھی پولستانی سیپ خریدتے ہیں۔ ابھی اپریل میں بھی پابندیوں کے باوجود بھی وہ یہ سیب منگواتے رہے ہیں۔ ادھر روس نے بھی یورپی ممالک سے ایسی اشیاء کی درآمد روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں اور یوکرائن اور بیلا روس کے ساتھ سرحدوں پر کسٹم کے سخت ترین قواعد لاگو کیے جا چکے ہیں۔

جون میں روسی حکام نے پولینڈ سے روس پہنچنے والے ساڑھے انیس ٹن سیب تباہ کیے۔ یہ سیب پولینڈ سے بیلا روس کے راستے روسی علاقے سمولینسک اوبلاسٹ پہنچائے گئے تھے۔ حکام کے مطابق پکڑا جانے والا یہ ٹرک بیلا روس کی ایک کمپنی کا تھا، جس پر لدی تمام اشیاء قبضے میں لے کر تلف کرنے کے لیے بھجوا دی گئیں۔

روس کی جانب سے زرعی اشیاء خصوصاﹰ تازہ سیبوں کی درآمد پر عائد پابندیوں کا کوئی سیاسی اثر تو نہیں ہوا تاہم پولستانی کسانوں اور برآمدکنندگان نے اس اثر کو محسوس کیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پولستانی پھلوں کا معیار بہت اچھا نہیں اور وہ دیگر منڈیوں میں مقابلے کے ذریعے اپنی اجناس کی فروخت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔