1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس اور قطر میزبان، کئی ممالک پریشان

مقبول کھیل فٹ بال کے دو عالمی کپ مقابلوں کی میزبانی کا حتمی اعلان فیفا کی جانب سے دو دسمبر کو سامنے آ گیا ہے، روس اور قطر کو میزبانی ملنے پر امریکہ، برطانیہ سمیت کئی دوسرے خواہشمندوں کے ہاں مایوسی کا احساس ہے۔

default

عالمی میڈیا کے نزدیک دو دسمبر کے دن فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کی ووٹنگ کے نتائج حیران کن تھے۔ سن 2018 کے لئے انگلینڈ کی پیشکش پہلے ہی راؤنڈ میں کم ووٹ ملنے پر خارج ہو گئی تھی۔ امریکی پیشکش کو خلیجی ریاست قطر کی جانب سے پیش کی جانے والی آفر نے آخری ووٹنگ کے مرحلے میں مات دی۔ سن 2022 کے عالمی کپ کی میزبانی کے لئے ہونی والی خفیہ رائے شماری میں آسٹریلوی پیشکش کو بھی شروع ہی میں مقابلے سے خارج ہونا پڑا۔ ایگزیکٹو کمیٹی کے نتیجے سے امریکہ، برطانیہ، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا سمیت یورپی ملکوں میں مایوسی کی لہر نے کئی شائقین کو پریشان کردیا ہے۔

Dossierbild 3 Fifa-WM-Vergabe

روسی نائب وزیر اعظم ورلڈ کپ کی میزبانی کے اعلان کے بعد

دوسری جانب روس اور قطر کو حق میزبانی ملنے پر ایک بڑے حلقے سمیت خود فٹ بال کھیل کے نگران ادارے کے اس احساس کو تقویت حاصل ہوئی ہے کہ وہ اس کھیل کو ہر خطے میں یکساں طور پر مقبول و معروف کروانے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ اس فیصلے سے فٹ بال کھیل میں تبدیلی کی لہر پیدا ہوئی ہے۔ کسی بھی یورپی ملک میں سن 2006 میں عالمی کپ کا انعقاد جرمنی میں ہوا تھا۔ اس طرح اگر اگلی بار یورپ میں فٹ بال کے عالمی کپ کا انعقاد بھی ہوا تو وہ بیس سال بعد ہی ممکن ہو گا۔ لیکن تب بھی یقینی نہیں ہے کیونکہ اب فٹ بال کھیل میں یورپی ملکوں کے مقابلے میں امریکہ، آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا بھی ایک بڑے پاور ہاؤس کی طرح سامنے آ چکے ہیں۔ ممکنہ طور پر چند سالوں بعد نئی اقتصادی سپر پاور چین کا نام بھی اس کھیل میں معتبر ہو گا۔

WM-Gastgeber 2018 Russland

روسی وزیر اعظم اور فیفا کے صدر زیپ بلیٹر

کھیلوں کے عالمی منظر نامے پر فٹ بال عالمی کپ کو کھیل کا سب بڑا ایونٹ خیال کیا جاتا ہے۔ اولمپک گیمز کا چراغ بھی اس عالمی کپ کے سامنے بجھا بجھا سا دکھائی دیتا ہے۔ روس اور قطر کو میزبانی ملنے پر امریکی صدر سے لے کر آسٹریلیا کے دور افتادہ شہر تک میں مایوس کا احساس واضح طور پر محسوس کیا گیا ہے۔ دوسری جانب روس اور قطر نے مشترکہ طور پر تبدیلی کی لہر کو مستقبل کے ایک نئے عہد سے تعبیر کیا ہے۔ اگلا فٹ بال ورلڈ کپ، سن 2014 میں برازیل میں منعقد ہو گا۔

قطر کے گرم موسم اور زیادہ درجہ حرارت کے حوالے سے کئی یورپی ملکوں کو تحفظات ہو سکتے ہیں لیکن قطری منتظمین کا دعویٰ ہے کہ وہ ایسے میدان تیار کریں گے جہاں درجہ حرارت کو مکمل طور پر کنٹرول کیا جا سکے گا۔ ویسے بھی بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ فٹ بال کے میچ رات کے ابتدائی پہر میں ہوتے ہیں اور اس وقت صحرائی علاقوں میں درجہ حرارت میں تیزی سے کمی واقع ہوتی ہے اور اس وجہ سے قطر کو کسی بڑی مشکل کا سامنا نہیں ہوگا۔ قطری حکام کو مشکل ہوئی تو چار لاکھ سے زائد سیاحوں کو ایک چوٹے سے رقبے میں سنبھالنا ہو گا۔

دوسری جانب روس ایک بہت بڑا ملک ہے اور وہاں کی روز افزوں اقتصادی ترقی عالمی کپ کے انعقاد میں پریشانی کا سبب نہیں ہو گی۔ روس میں کئی بڑے شہر ہیں اور وہاں پہلے ہی شاندار اسٹیڈیم موجود ہیں۔ اب ان کی تزئین نو کو عمل شروع ہو گا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس