1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس اور جا رجیا کے درمیان کشمکش ایک نئے موڑ پر

روس اور جورجیا کے مابین علاقائی تنازعے کے حل کے لئے بات چیت کے اگلے دور کا آغاز یکم جولائی سے ہوگا۔ منگل کے روز جنیوا میں یورپی یونین کی زیرنگرانی روس اور جارجیا کے مندوبین کے درمیان مذاکرات تقریبا چار گھنٹے جاری رہے۔

default

روسی ٹینک جارجیا کے جنوبی علاقے میں، فائل فوٹو

مذاکرات کے بعد جارجیا کے بحران سے متعلق یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی پیئرموریل نے ایک نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ کا اعلان کیا۔

موریل کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان علاقائی سلامتی کے بارے میں نہایت تعمیری بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا: "مذاکرات کا یہ عمل بھرپور طور سے جاری ہے اور آج دونوں ممالک کے مابین اس کے طریقہءکار کو طے کیا گیا ہے۔"

اس مکالمت سے ایک دن قبل قفقاذ کے خطے میں علاقائی تنازعات میں الجھی ان دونوں ریاستوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں اس وقت کشیدگی آگئی جب روس اور جنوبی اوسیتیا کے مندوبین نے ابخازیہ کے مندوبین کی غیرموجودگی کو وجہ بنا کر مذاکرات سے واک آؤٹ کردیا تھا۔ ابخازیہ کے مندوبین کا موقف تھا کہ وہ ان مذاکرات میں اس وقت تک شرکت نہیں کریں گے جب تک ابخازیہ کے بارے میں اقوام متحدہ کے مشن کی رپورٹ منظرعام پر نہیں آجاتی۔

قفقاذ کے علاقے میں جنوبی اوسیتیا اور ابخازیہ جارجیا سے علیحدہ ہوئے اپنی خودمختاری کا اعلان کرنے والی دو ایسی ریاستیں ہیں جن کو روس کی پشت پناہی حاصل ہے اور اسی تناظر میں روس اور جارجیا کے درمیان گذشتہ سال اگست میں ایک چھ روزہ جنگ بھی ہوئی تھی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ابخازیہ کے حوالے سے عالمی ادارے کے ایک مشن کی رپورٹ جاری کردی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ روس اور جارجیا کے درمیان تنازعات مغربی ممالک کو تیل کی فراہمی کے اہم راستے میں واقع اس خطے پر کافی اثرانداز ہورہے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مذاکرات کے اس عمل کے دوران اس خطے میں سلامتی کی صورتحال بہتر ہوجائے گی۔

UN-Generalsekretär Ban Ki Moon Vereinten Nationen

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون

بان کی مون نے اس رپورٹ میں سفارش کی ہے روس اور جارجیا کے درمیان عارضی حد بندی کے اطراف تقریبا 12 کلومیٹر کے سیکورٹی زون میں فوجی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی جائے اور اس خطے سے ملحقہ 12 کلومیٹر پر پھیلے ہوئے نواحی علاقے میں ہر قسم کے بھاری فوجی سازوسامان کی نقل و حرکت کو بھی روکا جائے۔

ایک کتابچے کی شکل میں جاری کی گئی اس رپورٹ کع اگرچہ اقوام متحدہ کے آبزرورمشن برائے جارجیا کا عنوان دیا گیا ہے لیکن یہ کتابچہ دراصل اس حساس اور متنازعہ موضوع کے بارے میں ہے کہ آیا ابخازیہ جارجیا کا حصہ ہے۔