1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس اور بھارت کے مابین اربوں ڈالر کا دفاعی معاہدہ

بھارت اور روس نے تیس بلین ڈالر سے زیادہ کے دفاعی معاہدے پر دستخط کئے ہیں جو بھارت کی دفاعی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ ہے۔ دونوں ملک مل کر بھارتی فضائیہ کے لئے پانچویں جنریشن کے جنگی طیار ے تیار کریں گے۔

default

روسی صدر بھارتی وزیر اعظم کے ہمراہ

روسی صدر دمتری میدویدیف بھارت کا دو روزہ دورہ مکمل کرکے ماسکو واپس لوٹ گئے ہیں۔ اس دوران وہ بھارت کی تاریخ کے سب سے بڑے دفاعی پروگرام کے سلسلے میں معاہدہ کرنے میں کامیاب رہے۔ مسٹر میدویدیف کے دورے کی خاص بات یہ بھی رہی کہ روس اپنے انتہائی جدید ترین ملٹی گریڈ نیوی گیشن سگنلز گلوناس پوزیشنگ سسٹم بھارت کو دینے کے لئے تیار ہوگیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے جب بھارت کو جی پی ایس سسٹم سے فوجی درجے کے سگنلز تک رسائی ہوسکے گی۔ بھارت اب تک اس سے محروم تھا کیوں کہ اس نے امریکہ کے ساتھ CISMOA یعنی کمیونی کیشن انٹرپورٹیبیلٹی اینڈ سکیورٹی میمورنڈم ایگریمنٹ پر دستخط نہیں کئے ہیں۔ FGFA کے تحت بھارت جو جنگی طیارے تیار کرے گا وہ تمام جدید ترین خوبیوں سے لیس ہوں گے۔ بھارتی فضائیہ اس طرح کے 250 تا 300 نئے جنگی طیارے سن دو ہزار سترہ سے بیس کے درمیان اپنے بیٹرے میں شامل کرسکتا ہے۔

Dmitri Medwedew bei Indien Premierminister Manmohan Singh.jpg

روس بھارت کا سب سے بڑا دفاعی پارٹنر رہا ہے

اس معاہدے کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ جنگی طیارے تیسرے ملکوں کو برآمد بھی کئے جاسکیں گے۔ تاہم دفاعی امور کے ماہر منوج جوشی کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے بھارت فائدے میں نہیں ہے کیوں کہ وہ جنگی طیارے کی تیاری پر آنے والے دوسرے ملک کا خرچ اپنے سر لے رہا ہے اور طیارہ جب تیار ہوجائے گا تو بھارت کو اسے مارکیٹ کی قیمت پر خریدنا پڑے گا۔

اس پروگرام کے تحت آنے والے دنوں میں روس اور بھارت دیگر متعدد معاہدوں پر بھی دستخط کریں گے، جن میں حقوق املاک دانش (IPR) اور پروڈکشن کی تفصیلات شامل ہیں۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ان جنگی طیاروں کی تیاری پر آنے والے اخراجات اسے اب تک کا سب سے بڑا دفاعی سودا بناتے ہیں۔

خیال رہے کہ روس بھارت کا سب سے بڑا دفاعی پارٹنر رہا ہے۔ بھارتی فوج کے لئے تقریباََ 70 فیصد ساز و سامان ماسکو کے راستے آتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان فی الحال 1.5 بلین ڈالر کی دفاعی تجارت ہوتی ہے۔ نئے معاہدے کے بعد اس میں زبردست اضافہ ہوجائے گا۔ صدر میدویدیف نے روسی ساخت کے مگ 35 جنگی طیاروں کی خریداری کے لئے بھی بھارتی حکام کو آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ بھارتی فضائیہ کو تقریباََ دس بلین ڈالر کے 126 ایسے میڈیم رینج جنگی طیاروں کی ضرورت ہے۔ روس کے علاوہ امریکہ اور یورپ کی پانچ کمپنیاں یہ سودا حاصل کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہی ہیں۔

روس کی UAC اور Rosoboronexport اور بھارتی ایروناٹکس لیمیٹڈ (HAL) کے درمیان ایک مشترکہ پروگرام پر بھی دستخط ہوئے ہیں، جس کے تحت دونوں مل کر ٹرانسپورٹ طیارے تیار کریں گے۔ دو ہزار نوسو کروڑ روپے کے اس معاہدے کے تحت 250 ٹرانسپورٹ طیارے تیار کئے جائیں گے۔

رپورٹ: افتخارگیلانی/ نئی دہلی

ادارت: امتیازاحمد

DW.COM

ویب لنکس