1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس اور امریکہ کی کارروائی پر کرزئی کا احتجاج

افغان صدر حامد کرزئی نے افغانستان کے اندر انسداد منشیات سے متعلق روس اور نیٹو کی مشترکہ فوجی کارروائی کو قومی خودمختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس بارے میں تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

default

افغان صدر حامد کرزئی

کابل میں صدارتی محل سے جاری ہوئے ایک بیان کے مطابق اس طرز کی یک طرفہ کارروائی جس میں افغانستان کی حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر دوبارہ ایسی کارروائی کی گئی تو حکومت اس کے خلاف مناسب اقدام اٹھائے گی۔ افغان صدر نے ملکی وزارت دفاع اور داخلہ کو ہفتے کی رات تک مکمل تحقیقات پر مبنی رپورٹ مرتب کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس سے قبل ماسکو میں انسداد منشیات کے محکمے سے وابستہ ایک اعلیٰ عہدیدار وکٹور ایانووچ دعویٰ کرچکے ہیں کہ کارروائی میں منشیات تیار کرنے والی چار لیبارٹریز کو تباہ کیا گیا۔ انٹر فیکس نیوز ایجنسی کے مطابق اس طرز کے ’’پہلے‘‘ آپریشن کے مقام پر لگ بھگ 250 ملین ڈالر کی ہیروئن اور مارفین ضائع کی گئی۔ ایانووچ نے یہ بھی کہا کہ روسی اور امریکی افواج کی اس مشترکہ کارروائی میں افغان وزارت داخلہ کے حکام شامل تھے۔ ایانووچ گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں تھے، جہاں انہوں نے اس طرز کی کارروائیوں پر بات کی تھی۔

ماسکو حکومت کافی عرصے سے یہ شکایت کرتی رہی ہے کہ افغانستان سے بڑی مقدار میں منشیات روس تک پہنچ رہی ہے، جس سے معیشت اور عوام کی صحت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ شورش زدہ افغانستان میں انسداد منشیات سے متعلق امریکہ اور نیٹو کی کوششیں بھی روس کی تنقید سے بچی ہوئی نہیں۔ روس میں 2009ء کے دوران افغانستان سے سمگل شدہ ہیروئن کے استعمال کو 30 ہزار ہلاکتوں کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔

Mohnanbau in Afghanistan

2004ۖء میں چلائی گئی انسداد منشیات کی مہم کے دوران بہت سے علاقوں میں زیر کاشت افیون تباہ کی گئی تھی

محتاط اندازوں کے مطابق جنگ زدہ افغانستان سے دنیا بھر کو 90 فیصد افیون سپلائی کی جاتی ہے۔ اس کی مالیت تین ارب ڈالر سالانہ بتائی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق رواں سال افغانستان میں ساڑھے تین ہزار ٹن افیون پیدا ہوئی۔ یو این کے مطابق منشیات کی سمگلنگ سے حاصل شدہ آمدن افغانستان کی مجموعی قومی پیداوار کے پانچ فیصد کے برابر ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس آمدن کا بڑا حصہ طالبان عسکریت پسندوں کو پہنچتا ہے۔

افغان مشن سے متعلق حالیہ کچھ عرصے میں نیٹو اور روس کے مابین قربتوں کا نیا سلسلہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن آئندہ ہفتے ماسکو جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ راسموسن کے ایک ترجمان کے مطابق نیٹو افغانستان کے معاملے پر روس سے مزید تعاون کا خواہش مند ہے۔ راسموسن 5 نومبر کو روسی صدر دیمتری میدویدیف سے ملیں گے۔ نیٹو ذرائع کے مطابق افغان فوج کے لئے 20 ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کی بھی درخواست کی جائے گی۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس