1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس اور امریکہ جوہری ہتھیاروں میں کمی کے سمجھوتے کے قریب

روس اور امریکہ کے درمیان جوہری ہتھیاروں میں کمی کے معاہدے START کے متبادل پر اتفاق ہوگیا ہے۔ خبررساں ادارے اے ایف پی نے روسی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ فریقین کے درمیان معاہدے کی تمام شقوں پر اتفاق ہوگیا ہے۔

default

دونوں ملکوں کے درمیان سرد جنگ کے دورمیں ہونے والے معاہدے START کی مدت گزشتہ برس ختم ہوگئی تھی جس کے بعد دونوں ممالک نے نئے معاہدے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

ماسکو اور واشنگٹن سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق بات اس قدر آگے بڑھ گئی ہے کہ نئے معاہدے پر دستخط کا مقام بھی طے کرلیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں یورپی ملک چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ کو منتخب کیا گیا ہے۔ پراگ میں ہی امریکی صدر باراک اوباما نے گزشتہ سال ایک تقریر میں جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے حصول کی خواہش ظاہر کی تھی۔

1991 میں امریکہ اور سابق سوویت یونین کے مابین طے پانے والے Strategic Arms Reduction Treaty کی مدت چونکہ گزشتہ برس ختم ہوگئی تھی لہذا دونوں فریقین نے نئے معاہدے کے حصول تک اسی پر کار بند رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سرد جنگ کے دونوں حلیفوں کے مابین تعلقات START کے بعد بھی سردمہری اور کھنچاؤ کا شکار ہے۔ 2002 میں امریکی صدر جارج بش نے جب یورپ میں میزائل دفاعی نظام نصب کرنے پر زور دیا تو روس نے START معاہدے سے دستبرداری کی تاہم اس وقت کے روسی صدر ولادی میر پوٹن اور امریکی صدر جارج بش نے اسی سال ماسکو ٹریٹی پر دستخط کئے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے تخفیف اسلحہ کے عزم کا ایک انتخابی نعرے کے طور پر بھرپور استعمال کیا اور صدر بننے کے بعد اس سلسلے میں عملی

Obama in Russland mit Putin

واشنگٹن اور ماسکو حکام کے مابین اس حوالے سے مذاکرات کے متعدد دَور ہو چکے ہیں

اقدامات کا بھی احاطہ کیا۔ اوباما START کے متبادل کو روس اور امریکہ کے تعلقات کے نئے دور سے تشبیح دیتے ہیں جو یورپ میں امریکی دفاعی نظام کی تنصیب کے منصوبے سے قدرے کشیدہ ہیں۔ نئے معاہدے کے حصول کے لئے واشنگٹن اور ماسکو کے سفارتکاروں اور دفاعی امور کے عہدیداروں کے درمیان طویل مشاورتی سلسلہ جاری رہا۔ اگلے ماہ کے وسط میں چونکہ امریکہ جوہری سلامتی سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گا اسی لئے واشنگٹن کی خواہش ہے کہ اس سے قبل ہی START کا متبادل حاصل کرلیا جائے۔

START معاہدے کی رو سے فریقین نے اپنے جوہری اسلحے کے ذخائر میں خاطر خواہ کمی کی اور اس سلسلے میں ایک دوسرے کو ہمیشہ اعتماد میں لینے پر اتفاق کیا تھا۔

معاہدے کے دوسرے فریق روس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین میخائل مارگیلوف نے تصدیق کی ہے کہ نئے معاہدے کی دستاویز تیار ہے بس اب امریکی اور روسی صدر کی جانب سے اس پر دستخط کردئے جانے کا انتظار ہے۔ امکان ہے کہ ایک روسی وفد مستقبل قریب میں امریکہ کا دورہ کرکے سینٹ کے ارکان سے نئے معاہدے پر تبادلہ خیال کرے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : کشور مصطفیٰ

DW.COM