1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی، یوکرائنی، جرمن اور فرانسیسی رہنماؤں کی ملاقات

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے جمعے کے روز پیرس میں یوکرائنی صدر پوروشینکو، جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ سے ملاقات کی۔ اس چار ملکی سربراہی اجلاس کا مقصد مشرقی یوکرائن میں قیام امن تھا۔

جمعے کے روز پیرس میں ہوئی اس سمٹ کا خاصے عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا تاکہ مشرقی یوکرائن میں روس نواز علیحدگی پسندوں اور یوکرائنی فورسز کے درمیان جاری لڑائی کا خاتمہ ممکن ہو، تاہم اس اجلاس میں شام میں روسی فوجی مداخلت کا معاملہ چھایا رہا۔

رواں ہفتے روسی پارلیمان کی جانب سے منظوری کے بعد روسی لڑاکا طیاروں نے شام میں فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا، جو آج جمعے کے روز بھی جاری رہے۔

ایک اعلیٰ فرانسیسی سفارتی عہدیدار نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ بات چیت میں اس اجلاس میں مشرقی یوکرائن میں قیام امن کے معاملے میں پیش رفت کے حوالے سے محتاط انداز میں امید کا اظہار کیا۔ بتایا گیا ہےکہ اس اجلاس میں مشرقی یوکرائن میں مزید علاقائی خود مختاری، یوکرائن میں آئندہ انتخابات، علیحدگی پسندوں کے لیے عام معافی، جنگی علاقے سے ہتھیار ہٹانے اور سرحدوں کو محفوظ بنانے جیسے معاملات پر بات چیت کی گئی۔

Frankreich Russland Treffen Hollande und Putin vor Ukraine-Gipfel in Paris

اس ملاقات میں شام میں روسی فوجی مداخلت کا معاملہ چھایا رہا

رواں برس فروری میں منسک معاہدے کے طے پانے کے بعد سے یہ پہلا موقع تھا کہ روس، فرانس، جرمنی اور یوکرائن کے رہنما آپس میں ملے۔

منسک معاہدہ علیحدگی پسندوں اور کییف حکومت کے دستوں کے درمیان وقفے وقفے سے لڑائی کی وجہ سے مسائل کا شکار رہا ہے، تاہم حالیہ کچھ ہفتوں میں اس معاہدے کے حوالے سے خاصی پیش رفت دکھائی دی ہے اور فریقین نے علاقے سے ٹینکوں سمیت بھاری ہتھیار نکال لیے ہیں۔

حکومتی فورسز اور روس نواز علیحدگی پسندوں کے درمیان اپریل 2014 سے جاری اس لڑائی میں اب تک تقریباﹰ آٹھ ہزار افراد ہلاک اور قریب دو ملین بے گھر ہو چکے ہیں۔

یوکرائن کو امید ہے کہ مشرقی ڈونبس کے علاقے کے حوالے سے پیش رفت ہو گی، جب کہ علاقائی انتخابات کی تاریخ پر بھی بات چیت آگے بڑھے گی۔ مشرقی یوکرائن میں علاقائی انتخابات کے لیے کییف حکومت نے 25 اکتوبر کی تاریخ کا اعلان کر رکھا ہے، تاہم باغیوں کی جانب سے بھی علاقائی انتخابات کے اعلان میں تجویز دی گئی ہے کہ یہ 18 اکتوبر یا یکم نومبر کو کرائے جائیں گے۔

اجلاس میں فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے حالیہ ہفتوں میں مشرقی یوکرائن میں مِنسک امن معاہدے کے حوالے سے پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ پیش رفت جاری رہی تو ’میں ماسکو کے خلاف عائد پابندیوں کے خاتمے پر بات کروں گا‘۔

یہ بات اہم ہے کہ روس کے خلاف یورپی پابندیوں اور جواب میں روسی پابندیوں کی وجہ سے متعدد یورپی کمپنیاں متاثر ہوئی ہیں۔

مشرقی یوکرائن میں فائربندی کے جائزہ لینے والے بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ چند ماہ میں فریقین نے اگلے مورچوں سے بھارتی ہتھیار ہٹا دیے ہیں۔ فروری میں منسک امن معاہدے میں یہی طے پایا تھا۔