1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’روسی ہوائی جہاز دہشت گردی کا نشانہ بنا‘

روسی سکیورٹی کے سربراہ کے مطابق گزشتہ ماہ مصری علاقے سینائی میں مسافر بردار ہوائی جہاز کی تباہی دہشت گردی کا نتیجہ تھی۔ اِس مسافربردار طیارے پر سوار 224 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

روس کی فیڈرل سکیورٹی سروس کے سربراہ الیگزانڈر بورٹنیکوف نے سینائی میں تباہ ہو جانے والے مسافر بردار طیارے کی تباہی کو دہشت گردی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ روس کی سرکاری نیوز ایجنسی تاس کے مطابق یہ بات بورٹنیکوف نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں بیان کی ہے۔ روسی خفیہ ادارے ایف ایس بی (FSB) کے سربراہ نے واضح طور پر کہا کہ اِس میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ طیارے کی تباہی ایک دہشت گردانہ فعل تھا۔ انہوں نے یہ رپورٹ اُس میٹنگ میں پیش کی، جس کی صدارت روسی صدر ولادیمیر پوٹن کر رہے تھے۔ روسی ایجنسی نے طیارے کی تباہی میں ملوث افراد کے بارے میں معلومات دینے والے کو پچاس ملین ڈالر انعام دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

اِس رپورٹ کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ طیارے کی تباہی میں ملوث افراد کو ڈھونڈ کر اُنہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ پوٹن کے مطابق سینائی میں تباہ ہونے والے طیارے میں ملوث دہشت گردوں کو زمین کے کسی بھی کونے سے ہر قیمت پر ڈھونڈا نکالا جائے گا اور پھر اُنہیں اِس جرم کی سزا دی جائے گی۔ پوٹن کے مطابق جنگی طیاروں کی فوجی کارروائیوں میں شدت پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ مجرموں کو یہ معلوم ہو سکے کہ اُن کی دہشت گردانہ اقدامات کے بعد انتقام کتنا ناگزیر اور ضروری ہو گیا ہے۔

Russland bestätigt Sinai-Flugzeugabsturz war Terroranschlag

روسی صدر ولادیمیر پوٹن

روسی خفیہ ادارے کے سربراہ نے میٹنگ میں بتایا کہ طیارے کی تباہی بارودی ڈیوائس کے پھٹنے سے ہوئی تھی۔ پورٹنیکوف کے مطابق میٹرو جیٹ کی پرواز کو کم از کم ایک کلوگرام بارودی مواد سے فضا میں اڑایا گیا تھا۔ سیاحوں کے لیے اِس چارٹرڈ پرواز پر 224 افراد سوار تھے۔ تمام ہلاک ہونے والے روسی شہری تھے۔ روسی صدر کے مطابق سینائی میں اُن کے ہم وطنوں کو قتل کر کے قاتلوں نے انتہائی خون ریزی اور بربریت کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ روسی حکومت کے مرکز کریملن نے اکتیس اکتوبر کو شرم الشیخ سے سینٹ پیٹرز برگ کے لیے اڑان بھرنے والے مسافر بردار طیارے کی تباہی کے حوالے سے کوئی بیان جاری کیا ہے۔

مصر کے ابتری کے شکار جزیرہ نما سینائی میں سرگرم ایک عسکری شدت پسند تنظیم نے طیارے کی تباہی کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ عسکریت پسند گروپ خود کو دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ سے وابستہ قرار دیتا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ اسلامک اسٹیٹ شام اور عراق میں فعال ہے اور کئی دہشت گردانہ واقعات کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔ ان میں جمعہ 13 نومبر کی شام فرانسیسی دارالحکومت پیرس پر کیے گئے حملے بھی شامل ہیں۔ روسی صدر نے کہا کہ شام میں روسی جنگی طیاروں کی کارروائیوں میں شدت لائی جائے گی۔

روسی رپورٹ پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے مصر کی ہوابازی کی وزارت کا کہنا ہے کہ سینائی کے فضائی علاقے میں تباہ ہونے والے ہوائی جہاز کے انٹرنیشنل تفتیش کاروں کو اِس حادثے میں کسی بم یا بارودی مواد کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔ مصری ہوابازی کے محکمے کے اہلکار نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر مزید کہا کہ جہاز کی تباہی کسی بم کے پھٹنے کا نتیجہ تھی، یہ محض ایک قیاس ہو سکتا ہے کیونکہ کوئی ثبوت میسر نہیں ہے۔

DW.COM