1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روسی ہدف شام کو دہشت گردوں سے آزاد کرانا ہے، کریملن

روسی حکومت نے کہا ہے کہ صدر اسد کی حمایت میں شام میں اس کی عسکری کارروائیوں کا ہدف اس ملک کے دہشت گرد تنظیموں کے زیر قبضہ علاقوں کو آزاد کرانا اور شام کو ایک ریاست کے طور پر جغرافیائی تقسیم سے روکنے میں مدد دینا ہے۔

Syrien Luftangriffe Douma Damskus Archiv (Reuters/B. Khabieh)

روس پر مغربی دنیا کا الزام ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف فضائی حملوں کے نام ہر اسد مخالف شامی اپوزیشن کو بھی نشانہ بنا رہا ہے

ماسکو سے ہفتہ بائیس اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی سرکاری رہائش گاہ کریملن کے ترجمان دیمیتری پَیسکوف نے آج کہا کہ شام میں عبوری روسی فوجی اڈا کوئی مقصد نہیں بلکہ مقصد تک پہنچنے کا راستہ ہے۔‘‘

پَیسکوف نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں کہا کہ برسوں سے خانہ جنگی کے شکار مشرق وسطیٰ کے ملک شام میں روسی عسکری کارروائیوں کا مقصد، جیسا کہ صدر پوٹن خود بھی کہہ چکے ہیں، ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگ میں شامی فورسز کی مدد کرنا ہے کیوں کہ ان تنظیموں کے زیر قبضہ ’شامی علاقے ہر حال میں آزاد کرائے جانا چاہییں‘۔

کریملن کے ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا، ’’ہمیں لازی طور پر شامی علاقوں کو آزاد کرانا ہے اور ہر وہ کوشش کرنا ہے، جس کے ذریعے شام کی جغرافیائی وحدت کو پہنچنے والے ہر ممکنہ نقصان کو روکا جا سکے۔‘‘ دیمیتری پَیسکوف نے مزید کہا کہ ان کی رائے میں شامی تنازعہ مستقبل قریب میں ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔

روسی حکومت کے نقطہ نظر کی عکاسی کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا، ’’افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمیں ملنے والی اطلاعات ہمیں یہ موقع ہی نہیں دیتیں کہ ہم بےاحتیاطی کرتے ہوئے امید پسندی کا دامن پکڑے بیٹھے رہیں۔یہ بات یقینی ہے کہ شامی تنازعے سے متعلق عالمی برادری کے پاس کرنے کے لیے ابھی بہت سے انتہائی مشکل اور طویل کام باقی ہیں۔‘‘

Syrien Konflikt Bashar Assad 3. Juni 2012 CLOSE (picture alliance/dpa)

شامی صدر اسد (تصویر میں) کی اقتدار سے رخصتی کے مطالبے کم عقلی کا ثبوت ہیں، روسی صدر پوٹن کے ترجمان کا موقف

اسد کی رخصتی کا مطالبہ ’کم  عقلی‘

اپنے اس انٹرویو میں روسی صدر پوٹن کے ترجمان پَیسکوف نے یہ بھی کہا کہ شامی تنازعے کے پس منظر میں صدر بشار الاسد کی اقتدار سے رخصتی کے مطالبات ’محض کم عقلی‘ ہیں۔ پَیسکوف کے بقول ’صدر اسد کی رخصتی کا مطالبہ کرنے والوں کی سوچ بصیرت سے عاری‘ ہے۔

صدر پوٹن کے ترجمان نے شامی تنازعے سے متعلق یہ تمام باتیں ایسے وقت پر کہیں جب روس نے محاصرہ شدہ شامی شہر حلب میں جہادیوں اور باغیوں کے خلاف اپنے فضائی حملے چند روز کے لیے روک رکھے ہیں۔ ماسکو نے اسد حکومت کی حمایت میں شام میں فضائی حملوں کا سلسلہ ایک سال قبل شروع کیا تھا تاکہ دمشق حکومت کے دستوں کی فیصلہ کن زمینی کامیابیوں کے حصول میں مدد کی جا سکے۔

DW.COM